احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 173
تعلیمی پاکٹ بک کا برگزیدہ رسول ہو۔173 حصہ اول غیبہ سے مراد خالص غیب ہے جس کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں ہوتا۔اسی غیب کے متعلق وہ فرماتا ہے۔وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ (الانعام: 60 ) یعنی غیب کی کنجیاں خدا تعالیٰ کے پاس ہیں اور غیب کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پس جس شخص کو خالص غیب پر جسے صرف اللہ ہی جانتا ہے اطلاع دی جائے صاف ظاہر ہو گا کہ اس کے لئے غیب کا خزانہ غیب کی چابیوں سے خدا نے خود کھولا ہے کوئی شخص ایسے خزانے کو خدا سے چر انہیں سکتا۔پس جس شخص کو بکثرت امور غیبیہ پر اطلاع دی جائے اور وہ خبریں بھی عظیم الشان ہوں اور آفاق و انفس سے تعلق رکھتی ہوں اور وہ وقوع میں بھی آجائیں تو یہ امور غیبیہ یا بالفاظ دیگر پیشین گوئیاں اس شخص کے منجانب اللہ ہونے پر الہی شہادت ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔سَنُرِيهِمْ أَيْتَنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَيْكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ۔(حم السجدة : 54) ترجمہ: ہم ان لوگوں کو تمام اطراف عالم میں بھی ضرور اپنے نشان دکھائیں گے اور خود ان کی جانوں (خاندانوں) میں بھی یہاں تک کہ ان کے لئے بالکل ظاہر ہو جائے گا کہ یہ ( قرآنی وحی ) حق ہے۔کیا تیرے رب کا ہر چیز پر نگران ہونا ان کے لئے کافی نہیں۔پس مامور من اللہ کے ذریعہ نشانات دو قسم کے ظاہر ہوتے ہیں۔کچھ اطراف عالم سے تعلق رکھتے ہیں کچھ نفوسِ انسانی سے۔