احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 171
ا پاکٹ بک 171 حصہ اول حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب اربعین میں بڑی تحدّی سے وو اس دلیل کولوگوں کے سامنے پیش کیا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامورمن اللہ ہونے کا دعوی کر کے اور کھلے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سُنا کر پھر با وجود مفتری ہونے کے برابر تئیس برس تک جو زمانہ وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے زندہ رہا ہے تو میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے جو مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے پانسور و پیہ نقد دے دوں گا۔“ اربعین نمبر 3۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 402) اس آیت کی تفسیر میں علامہ فخر الدین الرازی تحریر فرماتے ہیں:۔هذَا ذِكْرُهُ عَلَى سَبِيلِ التَّمْثِيلِ بِمَا يَفْعَلُهُ الْمُلُوكُ بِمَنْ يَّتَكَذَّبُ عَلَيْهِمْ فَإِنَّهُمْ لَا يُمْهِلُونَهُ بَلْ يَضْرِبُونَ رَقَبَتَهُ فِي الْحَالِ۔( تفسیر کبیر جلد 8 زیر آیت ھذا صفحه 291) ترجمہ : اس آیت میں مفتری کی حالت تمثیلاً بیان کی گئی ہے کہ اس سے وہی سلوک ہوگا جو بادشاہ ایسے شخص سے کرتے ہیں جو ان پر جھوٹ باندھتا ہے۔وہ اس کو مہلت نہیں دیتے بلکہ فی الفور قتل کرواتے ہیں ( گویا یہی حال مفتری علی اللہ کا ہوتا ہے اس کو لمبی مہلت نہیں ملتی۔ناقل ) ج اہل سنت کی مستند کتاب شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے : فَإِنَّ الْعَقْلَ يَجْزِمُ بِاِمْتِنَاعِ اجْتِمَاعِ هَذِهِ الْأُمُورِ فِي غَيْرِ الْأَنْبِيَاءِ فِى حَقٌّ مَنْ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَفْتَرِى عَلَيْهِ ثُمَّ يُمْهِلُهُ ثَلَاثًا وَّ عِشْرِينَ سَنَةً۔(شرح عقائد نسفی مجتبائی صفحه 100