احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 377
احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 377 حصہ دوم ہے۔انفاق وقت و عمر سے بھی ہے محنت و تکالیف برداشت کرنے سے بھی ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں لڑنے اور اپنا خون بہانے سے بھی ہے۔جس سعی کی ضرورت ہو اور جو سعی جس کے امکان میں ہو اس پر فرض ہے اور جہاد فی سبیل اللہ میں لغت و شرع دونوں اعتبار سے داخل۔یہ بات نہیں کہ جہاد سے مقصود مجر دلڑائی ہی ہو۔۔۔سورۃ فرقان میں ہے۔فَلَا تُطِعِ الْكَفِرِيْنَ وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا۔یعنی کفار کے مقابلہ میں بڑے سے بڑا جہاد کرو۔سورۃ فرقان بالاتفاق مکی ہے اور معلوم ہے کہ جہاد بالسیف یعنی لڑکی کا حکم ہجرت مدینہ کے بعد ہوا۔پس غور کرنا چاہئے کہ کی زندگی میں کون سا جہاد تھا جس کا اس آیت میں حکم دیا جا رہا ہے۔جہاد بالسیف تو ہو نہیں سکتا۔یقیناً وہ حق کی استقامت اور اس کی راہ میں تمام مصیبتیں اور شدتیں جھیل لینے کا جہاد تھا۔مسئلہ خلافت و جزیرۂ عرب صفحه 147-148 شائع کردہ سویرا آرٹ پریس لاہور ) مولوی سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:۔”جہاد کے معنے عموماً قتال اور لڑائی کے سمجھے جاتے ہیں۔مگر مفہوم کی ی تنگی قطعاً غلط ہے۔۔۔اس کے معنے محنت اور کوشش کے ہیں۔اسی کے قریب قریب اسی کے اصطلاحی معنے بھی ہیں یعنی حق کی بلندی اور اس کی اشاعت اور حفاظت کے لئے ہر قسم کی جد و جہد۔قربانی اور ایثار گوارا کرنا۔اور ان تمام جسمانی و مالی و دماغی قوتوں کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو ملی ہیں اس کی راہ میں صرف کرنا۔یہاں تک کہ اس کے لئے اپنی، اپنے عزیز وقریب کی ، اہل وعیال کی ، خاندان وقوم کی ، جان تک کو قربان کر دینا اور حق کے مخالفوں اور دشمنوں کی کوششوں کو توڑنا ان کی تدبیروں کو رائیگاں کرنا ان کے