احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 376
یتعلیمی پاکٹ بک 376 حصہ دوم جہاد کی ایک تیسری قسم جهاد بالنفس ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگ سے واپس آئے تو آپ نے فرمایا:۔66 رَجَعْنَامِنَ الْجِهَادِ الْاَصْغَر اِلَى الْجِهَادِ الْاَكْبَرِ۔(تفسير الرازی،سورة الحج آیت 78) کہ ہم نے چھوٹے جہاد سے جہادا کبر (بڑے جہاد ) کی طرف رجوع کیا۔یعنی غزوات میں فی سبیل اللہ قتل ہونا یہ چھوٹا جہاد سمجھا گیا۔اور اپنی نفسانی خواہشوں کا توڑ نا بڑا جہاد قرار پایا:۔قِيلَ يَارَسُولَ اللَّهَ مَا الْجِهَادُ الاكْبَرُ قَالَ أَلَا وَهِيَ مُجَاهَدَةُ النَّفْسِ“۔یعنی پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ! جہادا کبر کیا ہے؟ فرمایا کہ یہ نفس پر قہر کرنا ہے۔(كشف المحجوب مترجم اردو شائع کردہ شیخ الہی بخش ومحمد جلال الدین 1322 ھ صفحہ (221) اس قسم میں اصلاح نفس کے علاوہ دین کے کاموں کے لئے زندگی وقف کرنا بھی داخل ہے۔مولوی ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں:۔”جہاد کی حقیقت کی نسبت سخت غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جہاد کے معنے صرف لڑنے کے ہیں۔۔۔۔۔حالانکہ ایسا سمجھنا اس عظیم الشان مقدس حکم کی عملی وسعت کو بالکل محدود کر دینا ہے۔جہاد کے معنے کمال درجہ کی کوشش کرنے کے ہیں۔قرآن وسنت کی اصطلاح میں اس کمال درجہ سعی کو جو ذاتی اغراض کی جگہ حق پرستی اور سچائی کی راہ میں کی جائے جہاد کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔یہ سعی زبان سے بھی ہے۔مال سے بھی