احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 378
ندی تعلیمی پاکٹ بک 378 حصہ دوم حملوں کو روکنا اور اس کے لئے جنگ کے میدان میں اگر ان سے لڑنا پڑے تو اس کے لئے بھی پوری طرح تیار رہنا یہی جہاد ہے۔اور یہ اسلام کا ایک رکن اور بہت بڑی عبادت ہے۔افسوس ہے کہ مخالفوں نے اتنے اہم اور اتنے ضروری اور اتنے وسیع مفہوم کو جس کے بغیر دنیا میں کوئی تحریک نہ کبھی سرسبز ہوئی ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔صرف ” دین کے دشمنوں کے ساتھ جنگ کے تنگ میدان میں محصور کر دیا۔یہاں ایک شبہ کا ازالہ کرنا ضروری ہے کہ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جہاد اور قتال دونوں ہم معنی ہیں حالانکہ ایسا نہیں۔۔۔بلکہ ان دونوں میں عام و خاص کی نسبت ہے یعنی ہر جہاد قتال نہیں ہے بلکہ جہاد کی مختلف قسموں میں سے ایک قبال اور دشمنوں سے لڑنا بھی ہے۔(سیرت النبی جلد پنجم صفحہ 210-211 زیر عنوان ” جہاد ) مفسرین نے جَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا کی آیت میں جہاد بالقرآن بھی مراد لیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔" كَلِمَةُ حَقِّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ الْجِهَادُ الْأَفْضَلُ ( نسائی کتاب البيعت باب فضل من تكلم بالحق عند امام جائر ) یعنی سچی بات ظالم حاکم کے سامنے کہنا جہادا کبر ہے۔-2 کسی ملک میں بطور رعیت رہتے ہوئے اس حکومت کے خلاف اسلام بغاوت کی اجازت نہیں دیتا۔کیونکہ الْبَغْئُ بِغَيْرِ الْحَقِّ “ کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔البتہ اگر وہ حکومت جس کی رعایا کے طور پر مسلمان زندگی بسر کر رہے ہوں مداخلت فی الدین کرے یعنی انہیں عبادات سے رو کے اور دینی تعلیم پر چلنے نہ دے