احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 20 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 20

کر کے خود کو مسلمان کہے اسے قبول کر لیا جائے اور جس کی تعریف آنحضرت ﷺ نے خود بیان کر دی۔یہ آسان تعریف ایک معاشرتی اور سیاسی تعریف ہے اس میں حضور ﷺ کا یہ فرمانا کہ جس نے ہمارا ذبیحہ کھایا، ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلے کو قبلہ بنایا یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ظاہر یہ بنا کر کے معاشرتی شناخت کے لئے یہ مسلمان کی تعریف کی جارہی ہے اور حضور ﷺے کا یہ فرمانا کہ یہی وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور اسکے رسول کا ذمہ ہے، پس تم اللہ کے دیئے ہوئے ذمہ میں اسکے ساتھ دغا بازی نہ کرو۔مگر اٹارنی جنرل صاحب کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ ایک آدمی حقیقی معنوں میں مسلمان نہ ہونے کے باوجود کیسے مسلمان کہلا سکتا ہے۔حالانکہ موصوف کو علامہ اقبال کے الفاظ میں ” کفر کم تر از کفر کی اصطلاح دستیاب ہوگئی۔یہی بات امام جماعت احمدیہ فرما رہے تھے کہ بعض معنوں میں کفریہ اعتقادیا اعمال سرزد ہو جانے پر اسلام کی حقیقت سے دور جا پڑتا ہے مگر چونکہ وہ زبان سے اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتا ہے اس لئے اسے دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔جماعت احمدیہ نے اپنے تحریری بیان میں یہ موقف بیان کیا ہے کہ مسلمان کی وہی دستوری اور آئینی تعریف اختیار کی جائے جو حضرت خاتم الانبیا محمد مصطفی ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمائی اور جو اسلامی مملکت کے لئے ایک شاندار چارٹر کی حیثیت رکھتی ہے۔جماعت احمدیہ نے اپنے تحریری بیان میں کہا: ”ہمارے مقدس آقا ﷺ کا یہ احسانِ عظیم ہے کہ اس تعریف کے ذریعہ آنحضور نے نہایت جامع و مانع الفاظ میں عالم اسلامی کے اتحاد کی بین الاقوامی بنیاد رکھ دی ہے اور ہر مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ اس بنیاد کو اپنے آئین میں نہایت واضح حیثیت سے تسلیم کرے ورنہ اُمتِ مسلمہ کا شیرازہ بکھرا رہے گا اور فتنوں کا دروازہ کبھی بند نہ ہو سکے گا۔قرونِ اولیٰ کے بعد گزشتہ چودہ صدیوں میں مختلف زمانوں میں مختلف علماء نے اپنی من گھڑت تعریفوں کی رُو سے جو فتاوی صادر فرمائے ہیں ان سے ایسی بھیانک صورتِ حال پیدا ہوئی ہے کہ کسی صدی کے بزرگان دین، علمائے کرام،صوفیاء اور اولیاء اللہ کا اسلام بھی ان تعریفوں کی رُو سے بیچ نہیں سکا اور کوئی ایک فرقہ بھی ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا جس کا کفر بعض دیگر فرقوں کے نزدیک مسلّمہ نہ ہو۔“ اس سلسلہ میں مزید تفصیلات جاننے کے لئے محضر نامہ کا متعلقہ حصہ قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہوگا۔} اٹارنی جنرل کی اصل مشکل یہ تھی کہ وہ مولوی حضرات کے نرغے میں تھے، سوالات پر سوالات ان کو دئیے جارہے تھے اور وہ بے چارے وہی سوالات پوچھتے چلے جارہے تھے۔ان کو یہ سوچنے کی مہلت ہی نہیں ملی کہ اصل مسئلہ زیر بحث کیا تھا۔اور مولوی حضرات مسلمان کی تعریف قرآن وسنت کی رو سے متعین کرنے سے فرار اختیار کر رہے تھے اور محض اشتعال انگیزی اور ارکانِ اسمبلی کو متنفر کرنے کے لئے یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ احمدی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔حضرت امام جماعت احمد یہ بڑے وقار سے بغیر کسی مداہنت کے کفر و اسلام کا مسئلہ بیان کر رہے تھے کہ:۔جماعت احمدیہ کے نزدیک فتاوی کفر کی حیثیت اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہ بعض علماء کے نزدیک بعض عقائد اس حد تک اسلام کے منافی ہیں کہ ان عقائد کا حامل عند اللہ کا فرقرار پاتا ہے اور قیامت کے روز اس کا حشر نشر مسلمانوں کے درمیان نہیں ہوگا۔اس لحاظ سے ان فتاوی کو اس دنیا میں محض ایک اختباہ کی حیثیت حاصل ہے۔جہاں تک دُنیا کے معاملات کا تعلق ہے کسی شخص یا فرقے کو امت مسلمہ کے وسیع تر دائرہ سے خارج کرنے کا مجاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔یہ معاملہ خدا اور بندے کے درمیان ہے“۔الہذا کسی فرقہ کے فتویٰ کے باوجود کوئی دوسرا فرقہ حقیقت اسلام سے کتنا بھی دور سمجھا جائے ، ملتِ اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا۔امام جماعت احمدیہ نے تو آنحضرت ﷺ کے اقوال کی روشنی میں ایک روشن اور درخشندہ شاہراہ اتحاد ملت کی نشاندہی کر دی تھی جس پر چل کر ساری امت وحدت کی لڑی میں پروئی جائے مگر یہ مذہب کے اجارہ دار اپنے فتووں کی مدت میں کوئی کمی کرنے کو تیار نہیں اور یہ تسلیم کرنے پر راضی نہیں کہ ان کے جاری کردہ فتویٰ کے باوجود بھی کوئی مسلمان رہ سکتا ہے۔(مطبوعہ: الفضل انٹر نیشنل ۱۲ را پریل ۲۰۰۲ ۶ تا ۱۸ را پریل ۶۲۰۰۲)