احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 19
کرتے ہیں۔اس تقریر سے معلوم ہوا کہ اسلام کی حقیقت نہایت ہی اعلیٰ ہے اور کوئی انسان کبھی اس شریف لقب اہلِ اسلام سے حقیقی طور پر ملقب نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنا سارا وجود معہ اس کی تمام قوتوں اور خواہشوں اور ارادوں کے حوالہ بخدا نہ کر دیوے اور اپنی انانیت سے معہ اُس کے جمیع لوازم کے ہاتھ اُٹھا کر اُسی کی راہ میں نہ لگ جاوے۔پس حقیقی طور پر اسی وقت کسی کو مسلمان کہا جائے گا جب اُس کی غافلانہ زندگی پر ایک سخت انقلاب وارد ہو کر اسکےنفسا مارہ کا نقش ہستی مع اُس کے تمام جذبات کے یک دفعہ مٹ جائے اور پھر اس موت کے بعد محسن اللہ ہونے کے نئی زندگی اُس میں پیدا ہو جائے اور وہ ایسی پاک زندگی ہو جو اُس میں بجز طاعت خالق اور ہمدردی مخلوق کے اور کچھ بھی نہ ہو۔خالق کی طاعت اس طرح سے کہ اُس کی عزت و جلال اور یگانگت ظاہر کرنے کے لئے بے عزتی اور ذلت قبول کرنے کے لئے مستعد ہو اور اُس کی وحدانیت کا نام زندہ کرنے کے لئے ہزاروں موتوں کو قبول کرنے کے لئے طیار ہو اور اس کی فرمانبرداری میں ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو بخوشی خاطر کاٹ سکے اور اُس کے احکام کی عظمت کا پیارا اور اس کی رضا جوئی کی پیاس گناہ سے ایسی نفرت دلا وے کہ گویا وہ کھا جانے والی ایک آگ ہے یا ہلاک کرنے والی ایک زہر ہے یا کھسم کر دینے والی ایک بجلی ہے جس سے اپنی تمام قوتوں کے ساتھ بھاگنا چاہے۔غرض اس کی مرضی ماننے کے لئے اپنے نفس کی سب مرضیات چھوڑ دے اور اس کے پیوند کے لئے جانکاہ زخموں سے مجروح ہونا قبول کرلے اور اس کے تعلق کا ثبوت دینے کیلئے سب نفسانی تعلقات توڑ دے۔اور خلق کی خدمت اس طرح سے کہ جس قدر خلقت کی حاجات ہیں اور جس قدر مختلف وجوہ اور طرق کی راہ سے قستام ازل نے بعض کو بعض کا محتاج کر رکھا ہے ان تمام امور میں محض اللہ اپنی حقیقی اور بے غرضانہ اور سچی ہمدردی سے جو اپنے وجود سے صادر ہوسکتی ہے ان کو نفع پہنچا وے اور ہر یک مدد کے محتاج کو اپنی خداداد قوت سے مدد دے اور اُن کی دنیا و آخرت دونوں کی اصلاح کے لئے زور لگاوے۔عظیم الشان لہی طاعت و خدمت جو پیار اور محبت سے ملی ہوئی اور خلوص اور حنفیت تامہ سے بھری ہوئی ہے یہی اسلام اور اسلام کی حقیقت اور اسلام کا لب لباب ہے جونفس اور خلق اور ہوا اور ارادہ سے موت حاصل کرنے کے بعد ملتا ہے۔(آئینه کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد ۵، مطبوعه نظارت اصلاح و ارشاد ، ربوه صفحه ۲۰۔۶۲) اب اٹارنی جنرل صاحب کو یہ بہت مشکل تعریف نظر آتی ہے۔یحییٰ بختیار، خود کو علامہ اقبال کا شیدائی کہتے تھے، اُردوادب میں دلچسپی رکھتے ہیں اور عدالتی کارروائی میں انگریزی بحث کے دوران بھی بسا اوقات علامہ کے شعر پڑھتے سنا گیا ہے۔انکو علامہ کی زبان میں ہی سنا دوں۔؎ کہا۔۔بلرزم اگر گوئم مسلمانم مشکلات لا الله اصل بات تو یہی ہے کہ کوئی اسلام کی حقیقت کو سمجھے اور خود پر غور کرے تو لرزہ ہی طاری ہو جاتا ہے۔علامہ نے یہ بھی تو الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ شہادت آسان سمجھتے ہیں ہونا مسلماں اٹارنی جنرل صاحب بلا وجہ خشک ملاؤں کی راہ پر چل نکلے ورنہ علامہ اقبال موصوف تو ملاں کے مذہب کے بارے میں یہ فرما چکے ہیں۔رفعت افلاک میں یا خاک کی آغوش میں وہ تبج مسلسل مناجات مست و و خدا نباتات و جمادات مذهب مردان خود آگاه ملا مذہب , اور اقبال تو حقیقی مسلمان کے بارے میں کہتے ہیں: ”ہمسایہ جبریل امیں بندہ مومن“۔یہ ہمسایہ جبریل امین ہونا آسان بات تو نہیں مگر حقیقی اسلام تو یہی ہے۔حقیقی اسلام کے بارے جماعت احمدیہ کے بیان پر جناب اٹارنی جنرل کی طنز یہ حیرت خود باعث حیرت ہے۔جناب اٹارنی جنرل صاحب کو تو نہ مسلمان کی آسان اور عام فہم تعریف پسند آئی ہے جس کی رو سے ہر وہ شخص جو زبانی اقرار