احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 21
(چوتھی قسط) (۹) غیرت ناموس محمد مالی حضرت بانی جماعت احمد یہ زندگی بھر آریوں اور عیسائیوں سے چو کبھی لڑائی لڑتے رہے۔عیسائی پادریوں نے ایک اوردھم مچا رکھا تھا اور آنحضرت ﷺ کی شان میں بے لگام گستاخیوں کے مرتکب ہو رہے تھے، اور بے جا اور دل آزار اعتراضات کر رہے تھے اور باوجود بار بار کی فہمائش کے باز نہ آئے تو حضور ﷺ سے محبت اور غیرت کا تقاضہ یہ تھا کہ پادریوں کو منہ توڑ جواب دیا جاتا۔اور حضرت مرز اصاحب نے نام محمد ﷺ کی غیرت میں پادریوں کو ان کے اپنے اعتقادات کا آئینہ دکھایا۔حیرت در حیرت اس امر پر ہے کہ ریفرنس تو یہ تھا کہ جو لوگ حضور ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے اسلام میں ان کی حیثیت کیا ہے۔جو ریفرنس خصوصی کمیٹی کے سامنے تھا یا جو قرار داد حزب اختلاف نے پیش کی اس میں سے کسی میں بھی یہ سوال شامل نہیں تھا کہ مرزا صاحب نے اپنی کتب میں حضرت عیسی کی توہین کی ہے۔لیکن محض معاملے کو طول دینے ، الجھانے اور عوام کے ذہنوں میں اشتعال پیدا کرنے کے لئے یہ سوال بھی اُٹھایا گیا اور طویل جرح کی گئی۔اللہ وسایا نے اپنی مرتب کردہ کتاب کے صفحہ ۸۶،۸۵ پر اس مضمون پر کئے گئے سوالات اور جوابات نقل کئے ہیں اور جوابات بالبداہت مکمل نقل نہیں کئے ، ان میں قطع و برید کی گئی ہے۔اصل جواب جود یا گیا وہ تو اسمبلی کی کاروائی شائع ہونے پر ہی سامنے آئے گا مگر یہ اعتراض جماعت احمدیہ کی تاریخ میں کوئی پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا تھا ، نہ ہی علماء حضرات سے اصل صورتِ حال پوشیدہ تھی۔اس قسم کی باتیں دہرا کر، گو یا اراکین اسمبلی کو متاثر کیا جارہا تھا اور جناب مفتی محمود صاحب کی اُس پر یشانی کا، جس کا اوپر ذکر آچکا ہے، یہ حل نکالا گیا تھا کہ ممبران کو مشتعل کر کے مرزا ناصر احمد صاحب کے بیان کا اثر زائل کیا جائے۔چونکہ اللہ وسایا نے اپنی کتاب میں گمراہ کن سوال شائع کیا ہے اس لئے مناسب ہے کہ اصل صورت حال جماعت کے لٹریچر اور اس دور کے پس منظر میں پیش کر دی جائے۔حضرت مرزا صاحب پر حضرت عیسی کی توہین کا الزام نہ صرف غلط بلکہ خلاف عقل ہے کیونکہ مرزا صاحب خود مثیل مسیح ہونے کے مدعی تھے۔حضرت مرزا صاحب لکھتے ہیں :۔" جس حالت میں مجھے دعوی ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور حضرت عیسی علیہ السلام سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں اگر نعوذ باللہ حضرت عیسی کو برا کہتا تو اپنی مشابہت ان سے کیوں بتا تا۔(اشتہار ۲۷ دسمبر ۱۸۹۷ء حاشیه مندرجه تبلیغ رسالت جلد 4 صفحه ۷۰) چنانچہ حضرت مرزا صاحب نے بار بار اس الزام کی تردید کی اور فرمایا:۔” ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شان بزرگ کے برخلاف ہو۔اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکا کھانے والا اور جھوٹا ہے“۔(ایام الصلح۔ٹائٹل پیج صفحه ۲ ، روحانی خزائن جلد نمبر ۱۴ صفحه ۲۲۸) حضرت عیسی کے بارے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے تصورات جدا جدا ہیں۔عیسی ابن مریم اور یسوع تاریخی طور پر ایک ہی وجود ہیں۔ناصرہ کے مقام پر حضرت مریم کے بطن سے پیدا ہونے والا بچہ جس کو قرآن کریم عیسی ابن مریم کہتا ہے وہ اللہ کے ایک برگزیدہ رسول تھے۔انکی عظمت قرآن شریف میں بیان ہوئی ہے۔انہوں نے کبھی خدائی یا خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔وہ موحد تھے، کبھی تثلیث کی تعلیم نہیں دی۔یہ عیسی ابن مریم کے بارے میں مسلمانوں کا تصور ہے۔قرآن حکیم نے ابن مریم ہونے کے علاوہ حضرت عیسی کا شجرہ نسب بیان نہیں کیا۔مگر عیسائیوں کے ہاں یسوع کا شجرہ نسب ملتا ہے اور جو کچھ رطب و یا بس عیسائیوں کی بائبل میں درج ہے اسکے مطابق یسوع کی دونانیاں نعوذ باللہ کسبیاں تھیں۔یہ آیات آج تک کسی نے بائیبل سے حذف نہیں کیں۔یسوع کی جو شخصیت بائبل سے ظاہر ہوتی ہے اسکے مطابق یسوع شراب بھی پیا کرتے تھے اور بھی بہت سی لغویات لیسوع کے بارے میں بائبل میں ملتی ہیں۔اس فرضی مسیح کے بارے میں خود مولانا مودودی لکھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ( یعنی عیسائی) اس تاریخی مسیح کے قائل ہی نہیں ہیں جو عالم واقع میں ظاہر ہوا تھا، بلکہ انہوں نے خود اپنے وہم و گمان سے ایک خیالی مسیح تصنیف کر کے اس کو خدا بنالیا ہے۔“