اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 301
اولاد النبی 18 301 حضرت امام حسن کے منہ میں ڈال رہے تھے۔پھر آپ نے دعا کی "اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔" حضرت حسنؓ کے حق میں رسول اللہ لی لی ایم کی یہی دعا حضرت براہ سے بھی مروی ہے۔رسول اللہ مسلم کی یہ دعائیں اپنے اس محبوب نواسہ کے بارہ میں ان کی زندگی میں کیسے مقبول ٹھہریں۔حضرت ابوہریرہ ایک سفر کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ لی یتیم کے ساتھ حسن یا حسین اپنی والدہ کے ہمراہ شریک تھے آپ بچے کے رونے کی آواز سن کر جلدی سے ان کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ میرے بیٹے کو کیا ہوا۔حضرت فاطمہ نے عرض کیا کہ پیاس سے روتا ہے۔اس دن حالت سفر میں لوگوں کے پاس پانی نہ تھا۔آپ نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ اسے مجھے دے دو۔پھر آپ نے حضرت حسنؓ کو اپنی چادر میں لے کر انہیں اپنے سینہ سے چمٹا لیا اور اپنی زبان ان کے منہ میں ڈال دی اور وہ اسے چوسنے لگے یہاں تک کہ پر سکون ہو گئے۔0 رسول اللہ صلی یا تم کو اپنی اولاد کے حق میں دعاؤں کے طفیل آئندہ زمانہ کے کچھ قبولیت کے نظارے بھی دکھائے گئے۔حضرت ابو بکرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی نیم گفتگو فرمارہے تھے اور حسن آپ کی گود میں تھے۔آپ صحابہ سے باتیں کرتے ہوئے کبھی ان کی طرف متوجہ ہوتے اور گاہے حسنؓ کی طرف توجہ فرما کر اس کو بوسہ دیتے اس دوران آپ نے فرمایا "میرا یہ بیٹا سردار ہو گا اور مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا۔" حضرت حسن سات سال کے کم سن بچے تھے کہ ان کے عظیم نانا کی وفات ہو گئی اور وہ ان شفقتوں کے گھنے سائے سے محروم ہو گئے۔اگر اس وقت صاحبزادی فاطمۃ الزھراء کی دنیا اندھیر ہو گئی تو معصوم حسن کے دل و دماغ پر کیا بیتی ہو گی۔دور خلافت راشده خلافت حضرت ابو بکرؓ کے زمانہ میں آپ نے اپنے نانا کے بعد خلیفہ راشد حضرت ابو بکر سے وہی محبت واحسان کا سلوک دیکھا۔جس کا ایک نظارہ حضرت عقبہ بن حارث کی اس روایت سے سامنے آتا ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم کی وفات کے چند روز بعد کا ذکر ہے حضرت ابو بکر نے نماز عصر ادا کی اور اس کے بعد باہر نکلے ، میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔حضرت علی آپ کے پہلو میں چل رہے تھے۔راستہ میں حضرت