اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 187 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 187

ازواج النبی 187 حضرت صفیہ مجبوریوں سے گھر سے باہر بھی جانا پڑتا تھا۔ان کا پر وہ نسبتا گرم اور ہلکا ہوتا تھا جبکہ شریف خاندانوں اور بالخصوص ازواج النبی کا پردہ معیاری و مثالی اور ایک عمدہ نمونہ تھا۔جس میں چہرہ کے پردہ کا خاص اہتمام بھی شامل تھا۔لونڈی کے پردہ کا شریف بیبیوں کے پردہ سے فرق کا اشارہ سورۃ احزاب کی آیت ذَالِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ (الاحزاب : 60) میں بھی موجود ہے۔یعنی مومن عورتیں چادر کے گھونگھٹ کا پردہ اختیار کریں جو اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں اور انہیں کوئی ایذاء نہ دی جاسکے۔حضرت ابن عباس اس آیت کا یہ پس منظر بیان کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں عرب عورتوں کالباس بلا امتیاز آزاد عورت یالونڈی ایک قسم کا ہوتا تھا۔تب اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کو چادر لینے کا حکم دیا کہ وہ لونڈیوں جیسا لباس نہ رکھیں۔اس پر دہ کا مدینہ کے اوباش بھی لحاظ کیا کرتے تھے۔۔۔گھونگٹ والی چادر کا پردہ معزز خواتین کے لیے ایسا مخصوص ہوا کہ حضرت عمر اپنے زمانہ خلافت میں کسی لونڈی کو اس پردہ کے اختیار کرنے کی اجازت نہ دیتے اور فرماتے تھے کہ گھونگٹ والی چادر کا پردہ آزاد عورتوں کے لیے ہے تاکہ وہ کسی چھیڑ خانی اور ایذاء رسانی سے بچ سکیں۔یہاں تک کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک لونڈی کو ایسا پردہ کئے دیکھا تو اسے سختی سے اس سے روک کر فرمایا کہ آزاد عورتوں سے مشابہت اختیار نہ کرو۔0 1211 حضرت صفیہ چونکہ اسیران جنگ میں سے تھیں، انہیں حرم میں شامل کرنے کے لئے کسی الگ اعلانِ نکاح کی ضرورت نہیں تھی۔جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ اگر وہ (لونڈیاں) مکاتبت کا مطالبہ نہ کریں تو ان کو بغیر نکاح کے اپنی بیوی بنانا نا جائز ہے یعنی نکاح کے لیے ان کی لفظی اجازت کی ضرورت نہیں۔چنانچہ صحابہ کرام قیاس آرائیاں کرنے لگے کہ اگر نبی کریم عالم نے حضرت صفیہ کو محض ایک لونڈی کے طور پر قبول فرمایا ہے تو آپ ان سے پردہ کا خاص اہتمام نہیں کروائیں گے اور اگر وہ آپ کی زوجہ اور ام المومنین ہیں تو ان سے دیگر ازواج جیسا مثالی پردہ کروایا جائیگا۔پھر جب آنحضرت لیلی می کنم نے انہیں ازواج مطہرات جیسا ہی پردہ کروایا تو آپ کا یہی فعل اعلان نکاح و شادی سمجھا گیا اور صحابہ کی تشقی ہو گئی۔13 دعوت ولیمہ حضرت صفیہ سے با قاعدہ شادی کا ایک اور قرینہ دورانِ سفران کی رخصتی کے باوجود دعوت ولیمہ کا اہتمام