اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 188 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 188

ازواج النبی 188 حضرت صفیہ ہے۔آنحضرت علی ایم کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک محبت بھری بے تکلفی تھی۔حضرت صفیہ سے شادی کے موقع پر ایک صحابی نے عرض کیا یار سول اللہ علی نیم ولیمہ کب ہو گا؟ حضور ملی تم نے فرمایا " ولیمہ تو حق 14 ہوتا ہے اور یہ ضرور ہو گا۔" پھر حضور طی یا کہ تم نے دوران سفر ہی اس ولیمے کا انتظام بھی فرمایا۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ فتح خیبر سے واپسی پر جب ہم سد الصباء مقام پر پہنچے تو رسول اللہ صلی یا تم نے یہاں پڑاؤ کیا اور اسی جگہ رخصتی کے بعد دعوت ولیمہ کا انتظام فرمایا۔حالت سفر میں بھی یہ ایک نہایت سادہ ر پُر وقار تقریب تھی۔حضور نے صحابہ سے فرمایا کہ سب کے پاس جو زادِ راہ ہے، اسے اکٹھا کیا جائے چنانچہ کھجور اور جو وغیرہ جو صحابہ کے پاس تھے اکٹھے کئے گئے۔حضور ” بھی اپنی چادر کے ایک پلو میں جو اور کھجور لیکر آئے۔ایک دستر خوان پر یہ سب کھانا چن دیا گیا اور تمام صحابہ اس دعوت میں شریک ہوئے۔رسول اللہ علیم نے صحابہ سے فرمایا " اپنی ماں کی دعوت کھاؤ " یوں حضرت صفیہ سے شادی کے بعد سفر خیبر میں نہایت سادگی کے ساتھ شاہ عرب کا یہ ولیمہ ہوا۔خود حضرت صفیہ نے اس ولیمہ کے لئے رات کو ہی پتھر کے ایک برتن میں کھجوریں بھگو کر رکھ دی تھیں۔صبح یہ نبیذ یعنی کھجور کا شربت مہمانوں کو پلایا گیا۔0 حسن خلق سے حضرت صفیہ کے دل پر فتح 17 1611 حضرت صفیہ کے کئی عزیز غزوہ خیبر میں مارے گئے تھے۔جن میں ان کے والد اور شوہر کے علاوہ بعض اور عزیز رشتہ دار بھی تھے۔خود حضرت صفیہ کہتی ہیں کہ اس پہلو سے آنحضور طی یتیم کے متعلق میرے دل میں ایک بوجھ تھا لیکن آپ نے محبت اور شفقت کے سلوک سے حضرت صفیہ کی اس قدر دلداری اور ناز برداری فرمائی کہ حضرت صفیہ کے بقول آپ نے ان کا دل جیت لیا۔وہ خود بیان فرماتی ہیں کہ جب حضور خیبر سے روانہ ہونے لگے اور مجھے اونٹ پر سوار کروانے کا وقت آیا تو حضور علی کریم نے پہلے ہودج تیار کروایا اور جو عبا آپ نے اوڑھی ہوئی تھی اسے تہ کر کے میرے بیٹھنے کی جگہ پر بچھایا تا کہ ہودج نرم ہو جائے۔یہ بیوی سے حسن معاشرت کا اعلیٰ نمونہ ہی نہیں بلکہ مفتوح قوم کی شہزادی کیلئے ایک اعزاز بھی تھا۔پھر آپ نے انہیں اونٹ پر سوار کروانے کے لئے یہ سہولت بھی بہم پہنچائی کہ اپنا گھٹنا ان کے آگے جھکادیا اور فرمایا اس پر پاؤں رکھ کر آپ اُونٹ پر سوار ہو جائیں۔" 1911