اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 186
ازواج النبی 186 حضرت صفیہ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ کوئی ایک لونڈی لے سکتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے حضرت صفیہ کو اپنے لئے چن لیا۔رسول الله علی علیم سے شادی بعد میں جب آنحضرت لیلی نیم کے علم میں یہ بات آئی کہ قیدیوں میں یہود کی ایک شہزادی بھی ہے، جسے حضرت دحیہ الکلبی لے چکے ہیں۔اس کا احترام و لحاظ یہود خیبر پر ایک اور احسان ہو گا جو ان کی دشمنی کم کرنے کا موجب بھی بن سکتا ہے۔ایسے ہر مشکل مرحلہ پر رسول ر م م م ا ایک طرف اللہ تعالی کی طرف رجوع کر کے اس سے رہنمائی اور دعا کے ذریعہ اس کے فضل کے طالب ہوتے تو دوسری طرف اپنے اصحاب رض سے مشاورت سے بھی کام لیا کرتے تھے۔چنانچہ آپ نے اپنے صحابہ سے مشورہ کیا کہ یہود کی اس شہزادی سے کیا معاملہ ہونا چاہیے۔صحابہ نے عرض کیا کہ یار سول اللہ علیکم ! یہ آپ کے مناسب حال ہے۔حضرت صفیہ سے آپ کے عقد کی صورت میں مفتوح قوم کی تالیف قلبی ہو گی اور یہ بات یہود کو اسلام کے قریب لانے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔حضور نے قومی مفاد میں یہ مشورہ قبول کرتے ہوئے حضرت صفیہ کو آزاد کر کے اپنے حرم میں شامل فرمایا۔اور غلامی سے آزادی کو ان کا حق مہر قرار دیا۔یہ گراں قدر حق مہر ا نہوں نے بخوشی قبول کیا۔دوسری طرف صحابی رسول حضرت دحیہ الکلبی جنہوں نے حضور میں لی ایم کی اجازت سے حضرت صفیہ کو اپنی تحویل میں لیا تھا، جب آنحضور صلی عالم نے حضرت صفیہ کو اپنے لیے منتخب کر لیا اور اس کے عوض تالیف قلب کے لیے حضرت دحیہ کو سات غلام عطا فرما دیے۔تو یہ زیادہ انعام انہوں نے بخوشی قبول کیا۔آنحضرت علیم نے حضرت صفیہ کو تکمیل عدت تک ایک مخلص انصاری گھرانے کی خاتون حضرت ام سلیم کے سپر د کیا تا کہ حالت طہر کے بعد وہ انہیں رسول اللہ سے شادی کے لئے تیار کر دیں۔خیبر سے واپس آتے ہوئے حضور میں ہم نے سد الصباء مقام پر پڑاؤ کیا اور تین رات یہاں قیام کیا۔اسی جگہ حضرت ام سلیم نے حضرت صفیہ یہ کو دلہن بنا کر رسول الله صل علی کی کمی کی خدمت میں پیش کیا۔0 خاص حجاب کا اہتمام اس زمانہ کے عرب رواج کے مطابق لونڈیوں کو اپنے مالکوں کے کام کاج اور سودا سلف و غیر ہ لانے کی رض