اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 148
ازواج النبی 148 حضرت زینب بنت جحش دوسری روایت کے مطابق حضور سے پوچھا گیا کہ یارسول اللہ ! آپ نے حضرت زینب کے لئے اواہ کا لفظ فرمایا ہے۔اس سے کیا مطلب ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس سے انتہائی خشوع و خضوع ، دردمند دل اور تضرع و عاجزی کی حالت مراد ہے۔یقیناً ابراہیم بہت ہی بردبار ، نرم دل (اور ) جھکنے والا ہے۔جو دوسخا 21 حضرت زینب بنت جحش بہت سخاوت کرنے والی اور مسکینوں اور غریبوں کا بے حد خیال رکھنے والی تھیں۔دست کاری کی صنعت اور ہنر سے آپ واقف تھیں۔ہاتھ سے کام کرنے کو ترجیح دیتی تھیں۔جانوروں کی کھالیں وغیر ہ رنگنے اور بعض اور چیزیں بنانے سے کچھ کما لیتی تھیں اور اس سے جو آمدن ہوتی تھی وہ اللہ تعالی کی راہ میں صدقہ کر دیا کرتی تھیں۔آنحضرت علی سلیم کو ان کی یہ بات بہت پسند تھی۔بعض مواقع پر اس بارے میں دیگر ازواج مطہرات کے سامنے حضرت زینب بنت جحش کی آپ نے تعریف بھی فرمائی۔حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ حضرت زینب بنت جحش اس گھر یلو مجلس میں موجود تھیں۔جس میں آنحضرت لیل لی کہ ہم نے اس موقع پر موجود اپنی ازواج سے فرمایا کہ أَسْرَعُكُنَّ لَاقًا فِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا یعنی میری وفات کے بعد تم میں سے بہت جلد جو بیوی مجھے آکر ملے گی وہ لمبے ہاتھوں والی ہے۔ازواج مطہرات ظاہری ہاتھوں کی لمبائی مراد لیتے ہوئے حضور کے سامنے ہی دیوار پر ہاتھ رکھ کر اپنے لگیں۔حضرت سودہ کے ہاتھ لمبے نکلے جبکہ حضرت زینب بنت جحش کے ہاتھ سب سے چھوٹے تھے مگر حضور ملی ایم کی وفات کے بعد حضرت زینب بنت جحش سب سے پہلے فوت ہوئیں۔اس موقع پر حضرت عمرؓ نے کیا خوب تبصرہ فرمایا کہ آنحضرت علی علیم کے سامنے جب ازواج ہاتھ ماپ رہی تھیں تو لمبے ہاتھوں کی حقیقت واضح نہ تھی۔مگر اب حضور کے بعد سب سے پہلے حضرت زینب کی وفات سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ لمبے ہاتھوں سے مراد، ان کا صدقہ وغیرہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا تھا۔ان کے وہ لمبے ہاتھ جو غریبوں کے گھروں میں پہنچ کر ان کی ضروریات پوری کرتے تھے۔24 6* 23 حضرت زینب کی مال سے بے نیازی اور استغناء کا عجب عالم تھا۔حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں جب اموال غنیمت آئے تو انہوں نے حضرت زینب بنت جحش کی خدمت میں ان کا حصہ بھی بھجوایا۔وہ اتنازیادہ تھا