اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 131 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 131

ازواج النبی 131 حضرت ام سلمہ ย 49 نے عرض کیا فرض نماز حضور علی کریم نے فرمایا تم امامت کیوں نہیں کرواتیں؟ حضرت ام سلمہ نے دریافت کیا کہ کیا یہ درست ہے؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔بس عورتوں کی امام آگے کھڑے ہونے کی بجائے درمیان میں کھڑی ہو جائے۔اس طرح حضرت ام سلمہ نے خواتین کو نماز باجماعت میں پہلی دفعہ امامت کروائی۔دوسری روایت میں مزید صراحت ہے کہ یہ نماز عصر کی تھی۔حضرت حجیر ةبنت حصین بیان کرتی ہیں کہ ہمیں حضرت ام سلمہ نے عصر کی نماز کی امامت کروائی اور آپ ہمارے درمیان کھڑی ہوئیں۔اور یوں عورتوں کے لئے نماز میں ایک خاتون کی امامت کا نمونہ ان کے ذریعہ جاری ہوا۔حضرت ام سلمہ حضور علم سے اکثر دینی مسائل دریافت کرتی رہتی تھیں۔اس وجہ سے صحابہ کرام بعد کے زمانے میں دینی سوالات پوچھنے کے لئے آپ سے رجوع کرتے تھے۔ایک موقع پر حضرت عبد اللہ بن عباس نے حضرت عائشہ سے پوچھوایا کہ نماز عصر کے بعد نفل پڑھنے جائز ہیں یا نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بارہ میں حضرت ام سلمہ سے پوچھیں۔سائل ان کے پاس گیا تو حضرت ام سلمہ نے بیان فرمایا کہ حضور عام طور پر عصر کے بعد نفل پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔کیونکہ غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنا منع ہے۔اور عصر کے بعد سورج ڈھلنے کا وقت ہوتا ہے اس لئے غروبِ آفتاب کی وجہ سے نماز کے لئے ناپسندیدہ اوقات میں شمار ہوتا ہے کہ کہیں نماز پڑھنے والا ممنوع وقت میں داخل نہ ہو جائے۔پھر انہوں نے اپنا یہ واقعہ بیان فرمایا کہ ایک دفعہ عصر کے بعد حضور میرے گھر نماز پڑھنے لگے تو میں نے اپنی خادمہ سے کہا کہ حضور علی تم کو یاد کر واؤ کہ آپ تو عصر کے بعد نماز سے روکتے تھے۔آج آپ خود پڑھ رہے ہیں، اگر آپ ہاتھ کے اشارے سے روک دیں تو واپس چلی آنا۔حضور طی یا ہم نے جب خادمہ کو ہاتھ کے اشارے سے منع فرما دیا اور سلام پھیرنے کے بعد فرمایا کہ دراصل آج نماز ظہر کے بعد عبد القیس قبیلہ کے وفد کی آمد پر مصروفیت رہی۔ان کے ساتھ ملاقات کی وجہ سے میری ظہر کے بعد کی دو رکعتیں ادا ہونے سے رہ گئیں جو میں نے اب ادا کی ہیں۔حضرت ام سلمہ کی ایک روایت کے مطابق وہ وفد بنو تمیم کا 52 51 جہاں تک بعض دوسری روایات میں آنحضور می یتیم کے عصر کے بعد دو نفل ادا کرنے کا تعلق ہے اس بارہ میں حضرت عائشہ وضاحت کرتی ہیں کہ نبی کریم ملی تیم نیکی کا کوئی کام شروع کرتے تو پھر اسے جاری