اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 132
ازواج النبی 132 حضرت ام سلمہ رکھتے تھے۔چنانچہ یہ نوافل آپ بعد میں بھی ادا فرماتے رہے۔یہاں تک کہ یہ دور کعتیں آپ نے کبھی نہیں چھوڑیں۔حضرت عائشہ بیان فرماتی تھیں کہ عام طور پر لوگ کوشش کرتے تھے کہ جب حضور کی باری میری طرف ہو تو وہ تحائف بھیجا کریں۔حضرت ام سلمہ اپنی دلیری کے باعث حق بات سے رکتی نہ تھیں۔چنانچہ ایک موقع پر بعض دیگر ازواج کے ساتھ مل کر انہوں نے حضور کی خدمت میں اس بارہ میں عرض کیا کہ یار سول الله تم لوگوں پر یہ بات واضح کر دینی چاہئے کہ جس بیوی کے ہاں بھی آپ کی باری ہو وہاں وہ تحائف لا سکتے ہیں۔انہیں خاص حضرت عائشہ کی باری کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔حضور نے اس بات سے اعراض کیا۔حضرت ام سلمہ سے ہی یہ روایت بھی ہے کہ آنحضرت نے ایک موقع پر فرمایا کہ عائشہ کے بارے میں مجھے کوئی الزام مت دیا کرو کیونکہ اللہ تعالی کا بھی اس کے ساتھ نرالا سلوک ہے اور ان کے بستر میں رض (54) مجھے وحی بھی آتی ہے۔حضرت ام سلمہ نے حضور طی تم کے گھر میں آکر غیر معمولی برکات سے حصہ پایا۔وہ گھر جس میں فرشتوں کا نزول ہوتا تھا اور وہ ان فرشتوں کو دیکھتی اور ان کی باتیں سننے کی سعادت پاتی رہیں۔وہ خود بیان فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت لی لی کہ تم میرے گھر میں تھے جبریل علیہم آئے وہ حضور علی یتیم سے گفتگو فرماتے رہے، جب اٹھ کر جانے لگے تو آنحضرت لیلی یا تم نے فرمایا کہ ام سلمہ جانتی ہو کہ یہ کون تھے۔میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ لی لی یم ا یہ آپ کے صحابی دحیہ کلبی تھے۔حضرت دحیہ وہ خُو بر و صحابی تھے جن کی شکل میں جبریل حضور طی کنیم کے پاس وحی لے کر آتے تھے۔حضرت ام سلمہؓ کہتی تھیں کہ میں سمجھتی رہی کہ دحیہ کلبی ہیں۔پستہ اس وقت چلا جب آنحضرت صلی علی تم نے مسجد میں جاکر خطبہ ارشاد کیا اور فرمایا کہ جبریل یہ وحی لے کر آئے تھے۔رض حضرت ام سلمہ کے والہانہ عشق رسول کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ آپ نے رسول اللہ لی لی ایم کے کچھ بال بطور تبرک سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔56