اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 72 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 72

ازواج النبی نادانستہ خطا سے در گزر 72 حضرت عائشہ رسول کریم ایم کے سفر میں جو بیوی بھی ہمراہ ہوتی آپ اس کے آرام اور دلداری کا خاص خیال رکھتے۔احادیث میں حضرت عائشہ کا ہار ایک سے زائد مرتبہ گم ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ایک ایسے ہی موقع پر آنحضرت نے کمال شفقت سے حضرت عائشہ کے ہار کی تلاش میں کچھ لوگ بھجوائے۔اسلامی لشکر کو اس جگہ پڑاؤ کرنا پڑا جہاں پینے کے لئے پانی میسر تھانہ وضو کے لئے۔ایسی صورت حال پیدا ہونے پر حضرت عائشہ کے والد حضرت ابو بکر بھی ان سے ناراض ہو گئے اور سختی سے فرمانے لگے۔"عائشہ ! تم ہر سفر میں ہی مصیبت اور تکلیف کے سامان پیدا کرتی ہو۔" مگر آنحضرت لی ہم نے کبھی ایسے موقع پر حضرت عائشہ کو جھڑ کا تک نہیں خواہ ان کی وجہ سے آپ کو پورے لشکر کے کوچ کا پرو گرام بدلنا پڑا اور تکلیف بھی اٹھانی پڑی۔اسی موقع پر تیمم کی آیات اتریں۔جو امت کی سہولت کیلئے اللہ تعالی کی طرف سے ایک احسان اور تحفہ تھا اور جسے بعض باذوق صحابہ حضرت عائشہ کی برکت شمار کرتے تھے۔چنانچہ انصار قبیلے کے رئیس حضرت اُسید بن حضیر نے تو اس موقع پر ام المومنین حضرت عائشہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اے ابو بکر کی اولاد ! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے جو مسلمانوں کو عطا ہوئی ہے۔واقعہ افک 31 ایک اور سفر میں سوء اتفاق سے پیش آنے والا واقعہ افک حضرت عائشہ کی زندگی کا دردناک واقعہ اور ایک بہت بڑا ابتلاء بن کر پیش آیا۔جس نے حضرت عائشہ بلکہ پورے اہل مدینہ کی زندگی کو ہلا کر رکھ دیا، خود حضرت عائشہ نے اس واقعہ کی جو تفاصیل بیان کی ہیں وہ ایک طرف انکی سادگی اور معصومیت کو ظاہر کرتی ہیں تو دوسری طرف اس کرب و اذیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے جس میں وہ قریباً ایک ماہ مبتلا رہیں اور اللہ تعالٰی نے انہیں غیر معمولی استقامت عطا فرمائی۔اس دوران خود حضرت نبی اکرم ا یتیم اور حضرت ابو بکر صدیق کے گھرانے پر جھوٹی الزام تراشی تمام مخلص مومنوں کے لئے بھی بہت بڑی آزمائش تھی۔جس کا سامنا معمولی غفلت اور سادگی کے باعث انہیں کرنا پڑا۔مگر خدائے علیم و خبیر کی طرف سے حضرت عائشہ کی برائت کا جس طرح اظہار ہوا، اس سے حضرت عائشہ کا مقام اور عصمت و طہارت ثابت ہوئی اور آپ کی ذات پر ہونے والے تمام ممکنہ اعتراضات کو ہمیشہ کیلئے رڈ کر دیا گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ اور