اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 71
ازواج النبی 71 حضرت عائشہ حسن سلوک پر شکوہ پیدا ہوا تو فرمایا کہ "بیویوں میں سے صرف عائشہ ہی ہے جن کے بستر میں بھی مجھے وحی ہوتی ہے"۔یعنی خدا کا سلوک بھی اللہ کی اس بندی کے ساتھ نرالا ہی ہے۔رسول کریم کو حضرت عائشہؓ کے جذبات و احساسات کا جس قدر خیال ہوتا تھا، اس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ایک ایرانی باشندہ رسول کریم کا ہمسایہ تھا، جو کھانا بہت عمدہ بنانا تھا اس نے ایک دن رسول کریم کے لئے کھانا تیار کیا اور آپ کو دعوت دینے آیا۔آنحضور کی باری عائشہ کے ہاں تھی۔آپ نے فرمایا کہ کیا عائشہ بھی ساتھ آجائیں؟ اُس نے غالباً تکلف اور زیادہ اہتمام کے اندیشے سے نفی میں جواب دیا آپ نے فرمایا پھر میں بھی نہیں آتا۔تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ بلانے آیا تو آپ نے پھر فرمایا میری بیوی بھی ساتھ آئے گی؟ اس نے پھر نفی میں جواب دیا تو آپ نے دعوت میں جانے سے معذرت کر دی۔وہ چلا گیا، تیسری دفعہ پھر آکر اس نے گھر آنے کی دعوت دی۔آپ نے بھی پھر اپنا وہی سوال دہرایا کہ عائشہ بھی آجائیں اس مرتبہ اس نے حضرت عائشہ کو ہمراہ لانے کی حامی بھر لی۔اس پر آپ حضرت عائشہ کے ساتھ اس ایرانی کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں جا کر کھانا تناول فرمایا۔جائز خواہشات کا خیال 27 رسول الله علم کو حضرت عائشہ کی جائز خواہشات کا بہت خیال رکھتے تھے۔حضرت عائشہ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی جو ہر انسان کی طبعی خواہش ہوتی ہے۔ایک دفعہ انہوں نے رسول اللہ لی لی تم سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ یارسول اللہ لی لی نیم ! آپ میری کوئی کنیت ہی رکھ دیں جو بالعموم کسی بچے کے نام پر ہوتی ہے۔رسول کریم لیلی یا ہم نے فرمایا تم اپنے بیٹے کے نام پر کنیت رکھنا۔بعض روایات کے مطابق حضرت عائشہ کا ایک بچہ بوجہ اسقاط ضائع ہو گیا تھا، اس کی نسبت سے آپ کی کنیت ام عبد اللہ رکھی گئی۔دوسری روایت میں ہے کہ جب ان کی بہن اسماء کے ہاں عبد اللہ بن زبیر کی ولادت ہوئی تو حضرت عائشہ اس بچے کو لے کر رسول اللہ اسلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔آپ نے اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا اس کا نام عبد اللہ اور تمہاری کنیت اس کی نسبت سے اتم عبد اللہ ہو گی۔اس واقعہ سے رسول اللہ علیم کی دلداری کا اندازہ ہوتا ہے جو آپ حضرت عائشہ سے فرماتے تھے۔29 الغرض حضرت عائشہ نے رسول اللہ یا ہم سے جو شفقتیں اور محبتیں دیکھیں وہ غیر معمولی ہیں۔