اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 22 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 22

ازواج النبی 22 تعددازدواج بات سن کر کسی زوجہ نے دوسری کو طنزیہ اشارہ کیا۔آنحضرت می نام حضرت صفیہ کے صفائے قلب کو 36 جانتے تھے۔آپ نے فرمایا " خدا کی قسم ! یہ اپنی بات میں سچی ہے گو یا صدق دل سے مجھے چاہتی ہے " حضرت جویریہ جو ایک مشرک اور دشمن قبیلہ سے رسول اللہ سلیم کے عقد میں آئیں اور آپ کے اخلاق فاضلہ اور حسن سلوک سے متاثر ہو کر آپ کی ایسی گرویدہ ہو ئیں اور ایسی سچی محبت آپ کے دل میں آغاز میں ہی پیدا ہو گئی جو ایک مومن کی حقیقی شان ہے۔چنانچہ جب آپ کے والد نے اپنی بیٹی کی اسیری کا سنا اور ان 37 کو آزاد کروانے کیلئے فدیہ لے کر آیا اور درخواست کی کہ اسے آزاد کر دیا جائے۔رسول اللہ لی تم نے حضرت جویریہ کو اختیار دیا کہ وہ والدین کے ساتھ جانا چاہیں تو جاسکتی ہیں۔والد نے خوشی خوشی جا کر اپنی بیٹی کو یہ بات بتائی اور کہا کہ خدا کیلئے مجھے رسوا نہ کرنا۔مگر قربان جائیں حضرت جویریہ پر انہوں نے کیا خوب جواب دیا کہ قَدْ اخْتَرْتُ رَسُولَ اللہ کہ اب تو میں خدا کے رسول کو اختیار کر چکی ہوں۔اپنے ماں باپ کو تو چھوڑ سکتی ہوں مگر ان سے جدا نہیں ہو سکتی۔اگر رسول الله علیم کی شادی محض عیاشی کی خاطر ہوتی تو غیر مذہب سے آنے والی خواتین کا یہ رد عمل نہ ہوتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ تمام ازواج ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کے باعث آپ پر دل و جان سے فدا تھیں۔آنحضرت علیم نے آخری عمر میں ایک موقع پر گھر میں موجود اپنی ازواج سے فرمایا کہ أَسْرَعُكُنَّ لَخَوْفًا في أَطْوَلُكُنَّ يَدًا یعنی میری وفات کے بعد تم میں سے بہت جلد جو بیوی مجھے آکر ملے گی وہ لمبے ہاتھوں والی ہو گی۔ازواج مطہرات ظاہری ہاتھوں کی لمبائی مراد لیتے ہوئے حضور علی لی ایم کے سامنے ہی سرکنڈے سے ہاتھ ماپنے لگیں کہ وہ کون خوش قسمت ہے جو پہلے وفات پاکر رسول اللہ یتیم سے جاملنے کی سعادت پائے 38 گی_® یہ غور کا مقام ہے کہ کسی عیاشی کرنیوالے پر کوئی یوں بھی جان فدا کر سکتا ہے۔بلاشبہ یہ رسول اللہ علیم کے اخلاق فاضلہ کا کمال ہے کہ ازواج آپ پر جان چھڑکتی تھیں اور خیال کرتی تھیں کہ ایسے وجود کے بعد زندہ رہنے سے کیا حاصل؟ تعدد ازواج پر شہوت پرستی کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود نے فرمایا:۔