اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 21 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 21

ازواج النبی 21 تعددازدواج ایک منزل کے فاصلہ پر اس جگہ جس جگہ رسول کریم علیم کا خیمہ تھا اور جس جگہ پہلی دفعہ مجھے آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا میری قبر بنائی جائے اور اس میں مجھے دفن کیا جائے۔دنیا میں سچے نوادر بھی ہوتے ہیں اور قصے کہانیاں بھی۔مگر بچے نوادر میں سے بھی اور قصے کہانیوں میں سے بھی کیا کوئی واقعہ اس گہری محبت سے زیادہ پُر تاثیر پیش کیا جاسکتا ہے ؟" یہی حال حضرت ام حبیبہ کی فدائیت کا تھا۔جو رئیس مگہ ابوسفیان کی بیٹی تھیں اور حبشہ میں بیوہ ہونے پر رسول اللہ لی لی سکیم کے عقد میں آئیں۔6ھ میں حدیبیہ کے معاہدہ کے بعد جب اہل مکہ عہد شکنی کے مر تکب ہوئے تو ابوسفیان اس معاہدہ کی توثیق کی خاطر مدینہ آیا اور اپنی بیٹی حضرت ام حبیبہ کے گھر گیا۔جب وہ آنحضرت ملی یکم کے بچھے ہوئے بستر پر بیٹھنے لگا تو حضرت ام حبیبہ نے فوراً آگے بڑھ کر اس بستر کو لپیٹ دیا۔سردار مکہ ابوسفیان لمبے عرصہ بعد اپنی بیٹی کے گھر آیا تھا۔وہ سخت حیران ہوا کہ میری بیٹی بجائے میرے اکرام اور عزت کے لئے بستر بچھانے کے الٹا اپنا بستر لپیٹ رہی ہے۔اس نے بڑے تعجب سے سوال کیا کہ بیٹی کیا یہ بستر میرے قابل نہیں یا مجھے تم نے اس کے قابل نہیں سمجھا۔حضرت ام حبیبہ نے عرض کیا ابا ! یہ بستر میرے شوہر نامدار ہی کا نہیں میرے آقا حضرت محمد مصطفی ملی لی ایم کا ہے اور آپ کو مشرک ہوتے ہوئے پاکیزگی نصیب نہیں۔اس لئے میں نے حضور می یی ستم کا بستر لپیٹ کر آپ سے جدا کر دیا ہے۔ابوسفیان نے کہا کہ اے میری بیٹی ! لگتا ہے جب سے تم مجھ سے جدا ہوئی ہو تمہارے حالات کچھ بگڑ گئے ہیں۔اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ علیم کے اخلاق فاضلہ کے باعث آپ کی ازواج آپ کو صدق دل سے چاہتی تھیں اور اپنے والدین پر بھی ترجیح دیتی تھیں۔کسی عیاشی کرنے والے کائیوں صدق دل سے احترام اور تقدس کا خیال نہیں رکھا جا سکتا۔35 یہودیوں میں سے رسول اللہ صلی علی السلام کے عقد میں آنیوالی حضرت صفیہ کو حضور صلی علی ایم کے ساتھ جو محبت تھی اس کا ایک اندازہ آنحضرت میم کی آخری بیماری میں ہوا۔ازواج مطہرات آنحضور کے پاس بیٹھی حضور کی تیمار داری اور عیادت میں مصروف تھیں۔اس دوران حضرت صفیہ نے بے اختیار کہا اے اللہ کے نبی ! میرادل کرتا ہے کہ آپ کی یہ بیماری مجھے مل جائے اور آپ کو اللہ تعالیٰ شفاء دے دے۔حضرت صفیہ کی یہ