اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 240
ازواج النبی 240 حضرت ریحانہ رض (5) اسیر جنگ ہونے کے لحاظ سے اگر حضرت صفیہ اور حضرت جویریہ سے مماثلت کے باوجود حضرت ریحانہ کو زوجہ تسلیم نہ کیا جائے تو بوجہ جنگی قیدی یہی اعتراض ان دو ازواج پر بھی ہو گا۔جہاں تک رسول اللہ صلی یا اسلام سے منسوب دیگر خواتین کا ذکر ہے۔ان میں سے کسی ایک میں بھی حضرت ریحانہ والی خصوصیات موجود نہیں کیونکہ یا تو ان خواتین سے نکاح ہی نہیں ہوا، صرف سلسلہ جنبانی کے بعد معاملہ ختم ہو گیا جیسے ام شریک، خولہ بنت الهدیل، اسماء بنت الصلت ، اسماء بنت النعمان، آمنہ ، ام حرام و غیرہ۔پھر بعض خواتین ایسی تھیں کہ باقاعدہ رخصتی عمل میں آنے سے پہلے ہی انہیں طلاق ہو گئی جیسے عمرۃ بنت یزید بن الجون، عالیہ بنت ظبیان وغیرہ ان میں سے کسی کو بھی رسول اللہ سلم کی صحبت میں رہنے کا موقع نہیں ملا۔اور کسی مؤرخ یا سیرت نگار نے بھی ان کو حضرت ریحانہ کی طرح زوجہ قرار نہیں دیا۔0 علامہ ابن الا شیر اس بارہ میں لکھتے ہیں:۔”ایسی خواتین جن کی رسول کریم کے ہاں رخصتی نہیں ہوئی یا محض پیغام نکاح بھجوایا اور عقد مکمل نہ ہوا یا کسی عورت نے آپ سے پناہ چاہی اور آپ نے طلاق دے دی تو ان امور میں بہت اختلاف ہے جس کے ذکر کا کوئی فائدہ نہیں۔ایسی منسوب خواتین کے مقابل پر حضرت ریحانہ کے زوجہ رسول ہونے کا ذکر مؤرخ طبری وابن سعد ، محدث ابن الجوزی اور شارح بخاری علامہ ابن حجر جیسے محققین نے انکی مذکورہ خصوصیات کی بناء پر کیا ہے۔نام و نسب حضرت ریحانہ زید بن عمرو بن خنافہ کی بیٹی تھیں جن کا تعلق مدینہ کے یہودی قبیلہ بنو نضیر سے تھا۔ان کی شادی بنو قریظہ کے ایک یہودی حکم نامی سے ہوئی تھی جو غزوہ بنو قریظہ میں مارا گیا۔اس لحاظ سے بعض نے آپ کو بنو قریظہ میں بھی شمار کیا ہے۔0 بنو قریظہ کی غداری اس جگہ رسول کریم طی یتیم کے ساتھ بنو قریظہ کی غداری اور مدینہ سے یہود کی جلاوطنی کا مختصراً ذکر ضروری ہے۔آنحضرت لیلی مہم جب غزوہ خندق سے فارغ ہو کر گھر واپس تشریف لائے تو ا بھی آپ بمشکل ہتھیار وغیرہ اتار کر نہانے دھونے سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ ایک فرشتہ کے ذریعہ یہ ارشاد ہوا ”جب تک بنو قریظہ کی غداری اور بغاوت کا فیصلہ نہ ہو جائے آپ کو ہتھیار نہیں اتارنے چاہئیں تھے۔“ چنانچہ