اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 241
ازواج النبی 241 حضرت ریحانہ ย آپ نے حضرت علیؓ کو صحابہ کے ایک دستے کے ساتھ فور ابنو قریظہ کی طرف روانہ کر دیا۔یہ ذو قعدہ 5 ھ کا واقعہ ہے۔کچھ دیر بعد خود آنحضرت طی می کنیم بھی مسلح ہو کر مدینہ سے روانہ ہوئے۔جب آپ بنو قریظہ کے قلعوں کے قریب پہنچے تو حضرت علیؓ نے آپ سے عرض کیا یارسول اللہ لی تم ! میرے خیال میں آپ کا آگے جانا مناسب نہیں، ہم خود ہی ان سے عہد شکنی کرنے والوں سے نمٹ لیں گے۔آپ اپنی بصیرت خداداد سے ساری صور تحال سمجھ گئے اور فرمایا کیا بنو قریظہ نے میرے متعلق کوئی بدزبانی کی ہے۔حضرت علیؓ نے اثبات میں جواب دیا۔تب آپ نے فرمایا حضرت موسی کو ان لوگوں کی طرف سے اس سے بھی زیادہ تکالیف پہنچی تھیں۔پھر آپ نے بنو قریظہ کے ایک کنوئیں پر پہنچ کر ڈیرہ ڈال دیا۔اور یہودِ بنو قریظہ نے محصور ہو کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔شروع شروع میں تو یہ لوگ سخت تمرد اور غرور کا اظہار کرتے رہے لیکن وقت کے ساتھ انہیں محاصرہ کی سختی اور اپنی بے بسی کا احساس ہونے لگا۔انہوں نے باہم مشورہ کیا جس میں انکے رئیس کعب بن اسد نے ان کے سامنے تین تجاویز رکھیں۔(1) ہم محمد پر ایمان لا کر مسلمان ہو جائیں کیونکہ فی الحقیقت محمد کی صداقت عیاں ہو چکی ہے اور ہماری کتب میں بھی اسکی تصدیق پائی جاتی ہے۔(2) ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو قتل کر دیں اور پھر انجام سے بے فکر ہو کر میدان میں نکل آئیں۔(3) آج سبت کی رات ہے۔محمد اور اس کے اصحاب اپنے آپ کو ہماری طرف سے امن میں سمجھتے ہیں۔آج ان پر شب خون مارا جائے۔کسی تجویز پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔10 محاصرہ کے کم و بیش ہیں 20 دن بعد یہود نے اوس قبیلہ کے اپنے ایک حلیف اور رسول اللہ صلی یا اسکیم کے صحابی حضرت سعد بن معاذ کو حکم مان لیا اور اپنے قلعوں کے دروازے اس شرط کے ساتھ کھولنے پر رضامند ہو گئے کہ سعد جو فیصلہ ہمارے متعلق کریں گے وہ ہمیں منظور ہو گا۔آنحضرت علی عیدالکریم نے بھی یہ تجویز منظور فرماتے ہوئے حضرت سعد کو بلوا بھیجا۔ان کی تشریف آوری پر آپ نے صحابہ سے فرمایا، اپنے سردار کے احترام میں کھڑے ہو جاؤ۔پھر آپ نے فرمایا سعد ! بنو قریظہ نے تمہیں حکم مانا ہے ان کے متعلق تم جو بھی فیصلہ کرو انہیں منظور ہو گا۔حضرت سعد نے یہ پوچھ کر کہ آپ کو بھی وہ فیصلہ منظور ہو گا ان کی شریعت کے مطابق یہ فیصلہ سنایا کہ بنو قریظہ کے جنگجو لوگ قتل کر دیئے جائیں۔ان کی عور تیں اور بچے قید