اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 239 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 239

ازواج النبی 239 ام المؤمنین حضرت ریحانہ حضرت ریحانہ کے بارہ میں اختلاف حضرت ریحانہ ย حضرت ریحانہ کا زمانہ 6 ہجری ہے۔اس ترتیب کے لحاظ سے حضرت جویریہ کے بعد ان کا ذکر ہونا چاہئے۔لیکن ان کے بارہ میں پائے جانے والے اس اختلاف کے باعث اس بحث کو آخر میں رکھا گیا ہے کہ آیا وہ قطعی طور پر ازواج میں شامل ہیں یا نہیں؟ بصورت دیگر رسول اللہ تم پر نیز رکھنے کے اس اعتراض کو بہر حال لا جواب نہیں چھوڑا جا سکتا اس لئے ان کا ذکر کئے بغیر چارہ نہیں۔یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کتب سیر میں جن خواتین کے رسول اللہ لی تعلیم سے منسوب رہنے کے بعد اور آپ کے حرم میں شامل ہونے سے پہلے طلاق یا وفات پانے کا ذکر ہے ان کو ازواج کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔لیکن جہاں تک حضرت ریحانہ کا تعلق ہے یہ بات نہایت اہم ہے کہ تاریخ میں کسی اور خاتون کی بطور زوجہ رسول اللہ کی موجودگی کا اس طرح ذکر نہیں ملتا جس طرح حضرت ریحانہ کا۔اس تاریخی ریکارڈ کا خلاصہ یہ ہے۔(1) حضرت ریحانہ کا حق مہر قریباً بارہ اوقیہ چاندی رسول اللہ صلی علی کریم نے ادا فرمایا۔اور رسول اللہ صلی ایم کے فیصلہ کے مطابق لونڈی یا ملک یمین اور زوجہ کے در میان ما بہ الامتیاز حق مہر ہے۔پس حضرت ریحانہ بھی حرم میں شامل تھیں نہ کہ کنیز۔(2) حضرت ریحانہ کے نکاح اور رخصتی کے بعد طلاق کا ذکر بھی ملتا ہے۔لونڈی کی صورت میں طلاق کا کوئی سوال پیدا نہیں ہو سکتا۔پس حضرت ریحانہ زوجہ رسول تھیں۔(3) آنحضور علم کا حضرت ریحانہ کے لئے الگ رہائش کا انتظام اور دیگر از واج جیسی باری کی تقسیم بھی ان کے زوجہ ہونے پر دلیل ہے۔0 (4) حضرت صفیہ کی طرح حضرت ریحانہ سے بھی رسول الله علی علیم کا ازواج النبی کی طرح پردہ کروانا بھی ان کے زوجہ ہونے کی واضح علامت ہے۔0 3