اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 212 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 212

ازواج النبی 212 حضرت ماریہ رض اس روایت میں صاحبزادہ ابراہیم کے عقیقہ پر ایک بکری ذبح کرنے کا حکم ہے۔جبکہ رسول کریم فرماتے تھے کہ بچہ عقیقہ (قربانی) کے عوض رہن ہوتا ہے۔اور آپ بالعموم لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔لیکن چونکہ اسلامی تعلیم میں نرمی اور ٹیٹر کا پہلو غالب ہے۔اور اس کے احکام تکلیف مالایطاق نہیں۔اس لیے اگر اس روایت کو صحیح مانا جائے تو آپ کے عمل سے لڑکے کیلئے عقیقہ کے دو بکرے ذبح کرنے کی سنت زیادہ معروف اور افضل ہے تاہم حسب توفیق خاص حالات میں لڑکے کی طرف سے ایک بکرا عقیقہ کا جواز بھی لیا جاسکتا ہے۔0 19 صاحبزادہ ابراہیم کی رضاعت کے بارہ میں انصار کے مختلف گھرانوں میں طبعا ایک جذ بہ اور شوق پایا جاتا تھا کہ وہ اس خدمت کی سعادت پائیں۔ابتدائی کچھ ایام میں تو حضرت سلامہ نے یہ خدمت انجام دی پھر ایک انصاری خاتون حضرت ام بردہ بنت منذر ) جو حضرت براء بن اوس کی زوجہ تھیں) کچھ عرصہ دودھ پلاتی رہیں۔رسول اللہ علیم بنی نجار کے محلہ میں اپنے لخت جگر ابراہیم کو دیکھنے تشریف لے جاتے اور وہاں قیلولہ بھی فرماتے۔رسول اللہ علیم نے حضرت ام بردہ کو کھجوروں کا ایک قطعہ بھی بطور تحفہ عطا فر مایا تھا۔اس کے کچھ عرصہ بعد صاحبزادہ ابراہیم رضاعت کے لئے حضرت ابوسیف کی بیوی حضرت ام سیف کے سپر د کئے گئے جو مدینہ میں لوہار کا کام کرتے تھے۔رسول اللہ لی تم کو صاحبزادہ ابراہیم سے بہت محبت تھی۔آپ اکثر اپنے بیٹے سے ملاقات کے لئے ابوسیف کے گھر تشریف لے جاتے صاحبزادے کو اٹھاتے سینہ سے لگاتے چومتے اور پیار کرتے۔22 صاحبزادہ ابراہیم کی استعداد روحانی صاحبزادہ ابراہیم کی ولادت سے تین سال قبل سورۃ الاحزاب کی آیت خاتم النیبین میں یہ صراحت آچکی تھی مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (الاحزاب : 41) کہ محمد ال یا ہم تمہارے (جیسے) مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کا رسول ہے اور سب نبیوں کا خاتم ہے۔