اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 213 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 213

ازواج النبی 213 حضرت ماریہ اس میں یہ اشارہ بھی مضمر تھا کہ رسول اللہ علیم کی نرینہ اولاد میں سے کوئی بھی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے گا۔اس بچے کی ولادت پر خوشی کے ساتھ طبعاً ایک گھبراہٹ پیدا ہونی بھی ضروری تھی کہ یہ بچہ کچھ عرصہ کا 23 مہمان ہے۔ایسی کیفیت میں حضرت جبریل نے آنحضرت میں یہ تم کو " اے ابو ابراہیم ! آپ پر سلام کہہ کر ایک گوناں تسلی بھی دی کہ اس بچے کا آکر کم عمری میں جانا بھی موجب برکت و سلامتی ہو گا۔وفات ابراہیم ہر چند کہ صاحبزادہ ابراہیم کی وفات ایسی الہی تقدیر تھی جس کے اشارے موجود تھے مگر طبعاً آپ کو اس نرینہ اولاد کی جدائی پر گہرا صدمہ تھا۔چنانچہ انکی وفات پر رسول اللہ علیم کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر، حضرت عبد الرحمان بن عوف نے عرض کیا کہ یارسول اللہ مسلم ! آپ بھی روتے ہیں۔آپ نے فرمایا۔اے ابن عوف یہ رحمت ہے۔پھر آپ کا ایک اور آنسو ٹپکا تو آپ نے فرمایا:۔إِنَّ العَيْنَ تَدْمَهُ وَالقَلْبُ يَحْزَنُ ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا، وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ 24 يَا إِبْرَاهِيمُ لِمَحْزُونُون ® یعنی آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگیں ہے اور ہم کچھ نہیں کہتے مگر وہی جو ہمارے رب کو پسند ہو اور ہم اے ابراہیم ! تیری جدائی سے یقیناً غمگیں ہیں۔کچھ یہی کیفیت حضرت ماریہ کی اپنی اکلوتی اولاد کی جدائی پر بھی تھی۔چنانچہ ان کی بہن سیرین روایت کرتی ہیں کہ صاحبزادہ ابراہیم کے آخری لمحات تھے۔میں اور میری بہن حضرت ماریہ رونے لگیں تو آنحضور نے منع نہیں فرمایا مگر جب بچہ فوت ہو گیا تو آپ نے ہمیں اونچی آواز سے رونے سے منع فرما دیا۔25 صاحبزادہ ابراہیم نے قریباً 18 ماہ عمر پائی۔گویا رضاعت کے دو سال بھی پورے نہ ہو پائے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔رسول اللہ صلی علی کریم نے ان کی وفات پر فرمايا إن له مرضعا في الجنَّةِ- 26 کہ صاحبزادہ ابراہیم کے لئے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہو گی۔یعنی ان کی روحانی تحمیل دوسرے جہاں میں ہو گی۔