اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 194 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 194

ازواج النبی 194 حضرت صفیہ 33 11 محبت اور شفقت کے ساتھ اس بات کا اعادہ کیا کہ میرا دل حضور ملی ترمیم کے لئے بالکل صاف ہو گیا۔آپ کے ساتھ پہلی مجلس سے ہی جب میں اٹھی ہوں تو آنحضرت لعلیم سے زیادہ کوئی مجھے محبوب نہ تھا۔آپ ہی مجھے سب سے پیارے اور سب سے زیادہ عزیز تھے " رسول کریم ملی ایم کی بعض اور دلداریوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت صفیہ بیان کرتی ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضور ہی میں یتیم و واپسی سفر میں نسبتاً جلد مدینہ پہنچنا چاہتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہمیں یہ ڈر تھا کہ حضرت صفیہ کے ایام مخصوصہ کی وجہ سے شاید ہمیں کچھ دن رکنا پڑے گا تا کہ وہ بھی آخری طواف سے فارغ ہو جائیں تو پھر واپسی ہو۔چنانچہ حضور نے اسی فکر کے باعث پوچھا کہ کیا صفیہؓ کی وجہ سے ہمیں رکنا ہو گا؟ یہ بھی حضور یم کی ایک دلداری تھی کہ اگر حج کے بعد اپنی فطری مجبوری کے باعث حضرت صفیہ کا آخری طواف باقی ہے تو ہم سب کو ان کا انتظار کرنا ہو گا۔لیکن جب آپ کو بتایا گیا کہ وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں تو آپ نے فرمایا " اچھا! پھر تو ہم روانہ ہو سکتے ہیں " اسی سفر کا ذکر ہے ، حضرت صفیہ بیان کرتی ہیں کہ حج کے بعد ہم واپس مدینہ لوٹے۔میرا اونٹ بہت تیز رو تھا۔آنحضرت ملی کہ تم نے شتر بان سے فرمایا کہ خواتین قافلہ میں شامل ہیں اس لئے اونٹوں کو ذرا رض آہستہ ہانکو۔پھر اچانک حضرت صفیہ کا وہ بہت تیز رفتار اونٹ اڑ کر رک گیا۔وہ اس وجہ سے پریشان ہو کر رونے بیٹھ گئیں۔آنحضرت ملی یکم ان کو دلاسے دے کر تسلی کروارہے ہیں مگر ان کو چین نہیں۔حضور جتنا ان کو بہلاتے وہ روتی چلی جاتیں کہ یارسول اللہ ! میری سواری تو سب سے آگے بڑھنے والی تھی یہ اب رُک کے بیٹھ رہی ہے۔جب بار بار سمجھانے کے باوجود ان کی طبیعت نہ سنبھلی تو آنحضورعلی تم نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور قافلہ کو پڑاؤ کا حکم دیا۔وہ کہتی ہیں کہ اب اگلے پڑاؤ پر مجھے یہ صدمہ لاحق تھا کہ ایسی بے صبری کا اظہار مجھ سے کیوں ہو گیا اور کیوں میں نے تحمل سے کام نہ لیا۔میرے دل میں یہ خیال بھی آیا کہ اگر آنحضرت علی یکم مجھے سے ناراض ہو گئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہو۔چنانچہ میں نے حضور کو راضی کرنے کی یہ ترکیب سوچی کہ حضرت عائشہ سے کہا کہ میں آج اپنی باری کا دن آپ کو ایک شرط پر دے سکتی ہوں اور وہ یہ کہ آپ آنحضرت علی یا تم کو مجھ سے راضی کر دیں۔دراصل حضرت صفیہ کو یہ اندیشہ تھا کہ میں نے جو اپنارونا