اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 193
ازواج النبی 193 حضرت صفیہ حضرت صفیہ بیان کرتی ہیں کہ حضور علم کی یہ شفقتیں ہمیشہ میرے ساتھ رہیں۔ایک دفعہ ازواج مطہرات میں سے کسی نے مجھے یہ طعنہ دے دیا کہ "تمہارا تعلق تو یہودی قبیلے سے ہے اور تم یہودیوں کی اولاد ا ہو" حضور صلی علی یا تم گھر تشریف لائے تو مجھے روتے دیکھ کر فرمایا کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ یارسول اللہ علیم ! آپ کی جن ازواج کا آپ کے خاندان یا قریش سے تعلق ہے وہ کہتی ہیں کہ ہم قریش کے خاندان سے ہیں اور تم یہودیوں کی بیٹی ہو۔حضور نے فرمایا " اے ٹیبی کی بیٹی ! اس میں رونے کی کونسی بات ہے۔تمہیں ان کو یہ جواب دینا چاہئے تھا کہ تم مجھ سے بہتر کس طرح ہو سکتی ہو ؟ حضرت ہارون علیکم میرے باپ ، حضرت موسیٰ“ میرے چچا اور محمد لی یہ کہ تم میرے شوہر ہیں " یعنی میرا تو تین نبیوں سے تعلق بنتا ہے۔اور تم ایک نبی کا تعلق مجھ پر جتلا ر ہی ہو۔حضرت عائشہ میں یہ وصف بھی تھا کہ حق بات کا بلا جھجک اظہار کر دیتی تھیں چنانچہ آپ فرماتی تھیں کہ رض میں نے کھانا پکانے میں حضرت صفیہ سے بہتر کوئی نہیں دیکھا۔ایک دفعہ انہوں نے میری باری میں کچھ کھانا بناکر بھیج دیا۔مجھے غیرت آگئی اور میں نے کھانے کا برتن زمین پر بیچ کر توڑ دیا۔رسول اللہ کریم نے کھانا لانے والے لڑکے انس سے صرف اتنا فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آگئی اور پھر اس ٹوٹے پیالے کے ٹکڑے خود اکٹھے کرنے لگے بعد میں خود ندامت کے ساتھ رسول اللہ صلی یتیم کی خدمت میں میں نے عرض کیا کہ یار سول الله علم میری اس غلطی کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا بر تن کے بدلے برتن اور کھانے کے بدلے کھانا۔32 حضرت صفیہ اور رسول اللہ صلی نیم کی شفقت بے پایاں حضرت صفیہ کے اندر رسول اللہ صلی علی کریم کی صحبت سے جو انقلاب پیدا ہوا اس کا ذکر وہ خود یوں بیان کرتی تھیں کہ " شروع میں آنحضرت ولی تم سے بڑھ کر میرے لئے کوئی قابل نفرین وجود نہیں تھا مگر امر واقعہ یہ کہ حضور طی تم نے پہلی ملاقات میں ہی اتنی محبت اور شفقت کا سلوک میرے ساتھ روا رکھا اور اس قدر اصرار کے ساتھ مجھ سے اظہارِ عذر فرماتے رہے کہ اے صفیہ ! تیرا باپ وہ تھا جو تمام عرب کو میرے خلاف ھینچ کر لایا اور اس نے یہ یہ کیا اور بالآخر ہمیں اپنے دفاع کیلئے مجبور کر دیا کہ ہم خیبر میں آکر اس کی ان سازشوں کے مقابل پر جوابی کارروائی کریں۔حضرت صفیہؓ فرماتی تھیں کہ آنحضور طی تم نے اس کثرت سے اور اتنی