اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 195
ازواج النبی 195 حضرت صفیہ 35 دھونا بند کرنے کے ارشاد کی فوری تعمیل نہیں کی تو آپ مجھ سے خفانہ ہو گئے ہوں۔حضرت عائشہ نے ان کی یہ شرط قبول کر کے اپنی خوبصورت اوڑھنی زیب تن کی خوشبو وغیرہ لگائی اور اپنے عمدہ لباس کے ساتھ آنحضرت لعلیم کے خیمہ میں پہنچ گئیں۔جو نہی پر وہ اٹھایا آنحضرت نے فرمایا، عائشہ آج تمہاری تو نہیں صفیہ کی باری ہے۔حضرت عائشہؓ نے جواب میں کمال حاضر دماغی سے یہ قرآنی آیت پڑھ دی ذَالِك فَضل اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ۔کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔پھر انہوں نے سارا قصہ حضور طی تم کو کہہ سنایا کہ کس طرح مجھے صفیہ نے اپنا آج کا دن اس شرط پر دے دیا ہے کہ میں ان کی طرف سے آپ کو راضی کر لوں۔حضرت عائشہ نے حضور میں تم کو ساری بات بتائی اور آپ صفیہ سے راضی ہو حضرت صفیہ نے اپنی باری محض رسول اللہ سلیم کی رضا کی خاطر قربان کی۔اسی طرح ایک ماہ رمضان کا واقعہ ہے۔حضور طی لی ال تیم اعتکاف میں تھے۔ازواج مطہرات حضور کی زیارت کے لئے مسجد نبوی آئیں اور ملاقات کر کے اپنے گھروں کو لوٹ گئیں۔حضرت صفیہ بنت حیی کا گھر حجرات نبوی سے الگ مسجد سے کچھ فاصلے پر تھاوہ حضور کے پاس رک گئیں۔حضور نے رات کے وقت انہیں تنہا واپس بھجوانا مناسب نہ سمجھا اور خود ان کے ساتھ ہو لئے۔جب مسجد کے اس دروازے کے پاس پہنچے جو حضرت ام سلمہ کے حجرے کے دروازے کے قریب ہے تو آپ نے دو انصار کو وہاں سے گزرتے دیکھا۔انہوں نے حضور علی قلم کو سلام کیا اور دیکھا کہ حضور کے ساتھ ایک باپردہ خاتون جارہی ہیں۔ان کے احترام میں وہ تیز قدموں سے آگے بڑھنے لگے۔آنحضرت علی کریم نے ان دونوں کو دیکھ کر فرمایا۔ذرا ٹھہر جاؤ میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حیی ہیں۔وہ دونوں انصاری رک گئے اور بہت ہی پریشان اور نادم ہو کر عرض کیا۔یار سول اللہ لی یا ہم اللہ پاک ہے آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ ہمارے دل میں اس کے علاوہ کوئی اور خیال بھی آسکتا ہے ؟ آنحضرت علی یا تم نے فرمایا " شیطان انسان کے اندر خون کی سی تیزی سے گردش کرتا ہے۔بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر۔مجھے اندیشہ پیدا ہوا کہ تمہارے دل میں کہیں کوئی غلط خیال نہ آجائے۔" اس لئے یہ وضاحت مناسب سمجھی گئی۔بہر حال اس واقعہ سے حضرت صفیہ کے لئے رسول اللہ علیم کی شفقت ظاہر و باہر ہے کہ حالت اعتکاف کے باوجو د رات کے اندھیرے اور ویران راستے کی مجبوری کے باعث انہیں گھر تک چھوڑنے کے لئے آپ خود ان کے ہمراہ تشریف لے گئے۔