اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 192
ازواج النبی 192 حضرت صفیہ اپنی حفاظت میں رکھنا جس طرح رات بھر یہ میری حفاظت پر مستعد رہے ہیں " یہ دعا قبول ہوئی جس کی دلچسپ داستان الگ ہے۔حضرت ابو ایوب نے بہت لمبی عمر پائی اور راقم الحروف نے بھی قسطنطنیہ میں ان کے 28 27 مزار پر دعا کی سعادت پاتے ہوئے اسے آج بھی محفوظ اور زیارت گاہ خاص و عام دیکھا ہے۔حضرت صفیہ مدینتہ الرسول میں حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ عسفان سے واپسی پر ہم رسول اللہ علی ایم کے ہم رکاب تھے آپ اونٹنی پر سوار تھے۔حضرت صفیہ بنت حیی کو اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا، آپ کی اونٹنی کا پیر پھسلا اور آنحضور میل می کنم اور حضرت صفیہ اونٹ سے گر پڑے۔ابو طلحہ نے اپنی سواری سے کود کر عرض کیا یار سول اللہ علیکم ! میں آپ پر قربان ، آپ خیریت سے تو ہیں۔آپ نے فرمایا " پہلے عورت کی خبر لو" چنانچہ ابو طلحہ نے اپنے منہ پر کپڑا ڈال لیا اور حضرت صفیہ کے پاس پہنچ کر ان کو بھی چادر اوڑھائی اور آپ کے لیے سواری کو ٹھیک ٹھاک کر کے تیار کیا۔خیبر سے مدینہ تشریف آوری پر آنحضور میں ہم نے حضرت صفیہ کا اپنے ایک صحابی حضرت حارثہ بن نعمان کے گھر ٹھہر نے کا انتظام فرمایا۔انصار کی عورتوں نے جب رسول اللہ علیم کے ساتھ آپ کی خوبرو دلہن کی آمد کی خبر سنی تو ان کو دیکھنے دوڑی چلی آئیں۔حضرت عائشہ بھی از راه جستجو نقاب اوڑھ کر ان خواتین میں شامل ہو گئیں۔آنحضور صلی علیم نے انہیں پہچان لیا اور جب وہ باہر نکلیں تو رسول اللہ صلی می کنم پیچھے سے جا کر ان کے پاس پہنچ گئے اور گلے لگالیا اور دریافت کیا کہ عائشہ ! تم نے انہیں کیسا پایا؟ حضرت عائشہ نے اپنے خاص انداز میں جواب دیا کہ " یہودیوں میں سے ایک یہودیہ " آنحضور نے فرمایا "عائشہ ! ایسا نہ کہو وہ اب اسلام قبول کرنے کے بعد بہت اچھی مسلمان ہے۔" ہر چند کہ حضرت عائشہ کی دلداری رسول اللہ لی ایم کو ملحوظ خاطر ہوتی تھی۔مگر ان کے اظہارِ غیرت کے بعض ایسے مواقع پر تربیت کی خاطر حضور انہیں بھی تنبیہ فرمانا ضروری سمجھتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے حضرت صفیہ کو اپنی چھوٹی انگلی دکھا کر ان کے پست قد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چھوٹے قد کا طعنہ دے دیا۔آنحضرت علی می کنیم کو پتہ چلا تو آپ نے بہت سرزنش کی اور فرمایا " یہ ایسا سخت کلمہ تم نے کہا ہے کہ تلخ سمندر کے پانی میں بھی اس کو ملادیا جائے تو وہ اور کڑوا اور کسیلا ہو جائے۔' 2911 30 11