اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 190
ازواج النبی 190 حضرت صفیہ 22 تھے۔پھر میں نے چا ابو یا سر کو ابا سے کہتے سنا کہ بھائی کیا یہ وہی (موعود نبی) ہے؟ میرے والد نے کہا کہ ہاں خدا کی قسم ! یہ وہی ہے۔چچانے کہا کیا واقعی آپ اسے اس کی نشانیوں سے پہچان گئے ہیں کہ وہ ساری علامتیں اسی شخص میں پوری ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا ہاں۔چچانے پوچھا تو پھر اس کے بارہ میں آپ نے کیا سوچا ؟ اتبانے کہا خدا کی قسم ! جب تک دم میں دم ہے محمد کی مخالفت کرنی ہے۔" ایک کم سن بچی کے صاف ذہن و دماغ پر نقش ہو جانیوالے اس بچے تاریخی واقعہ سے جہاں اس یہودی خاندان کی اسلام دشمنی ظاہر ہے وہاں اس واقعہ میں خدا ترس لوگوں اور عبرت حاصل کرنے والی قوموں کے لئے بہت بڑا سبق ہے کہ خدا کے مامور کے انکار و تکذیب اور عداوت کا فیصلہ کتنا خطرناک ہوتا ہے ؟ دراصل ایسا فیصلہ خدا سے دشمنی کے مترادف ہوتا ہے جس میں تعصب اور عجلت برتنے کا نتیجہ سوائے ہلاکت اور بر بادی کے کچھ نہیں ہوتا۔اسی قسم کے متعصب سرداران یہود کے بارہ میں رسول اللہ علی علی کریم کا یہ فرمان کتنا واضح ہے جنہوں نے اپنی قوم کو قبول حق سے روک رکھا تھا۔آپ نے فرمایا "اگر دس بڑے یہودی (سردار) مجھ پر ایمان لاتے تو سارے یہود ہی ایمان لے آتے " مگر وہ ظالم سردار اپنی قوم کو بھی ساتھ لے ڈوبے۔یہ واقعہ یقیناً آج کی دنیا کے لئے باعث عبرت ہے۔حضرت صفیہ اپنے خاندان کی اسلام دشمنی کے بارہ میں دوسری گواہی یہ بیان کرتی تھیں کہ میری آنکھ کے اوپر بہت گہرا نیلے یا سبز رنگ کا ایک نشان تھا۔حضور علی میں ہم نے اسے دیکھ کر پوچھا کہ یہ تمہیں کیا ہوا تھا ؟ تب میں نے آپ کو سارا قصہ کہہ سنایا کہ جب حضور می ینم خیبر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔میں نے خواب میں دیکھا کہ چودہویں کا چاند میری جھولی میں آگرا ہے۔میں نے اپنے خاوند کو یہ خواب سنائی تو اس نے بڑے زور سے مجھے ایک طمانچہ دے مارا اور کہا " کیا تم یثرب (مدینہ) کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہو ؟ " دوسری روایت میں ذکر ہے کہ حضرت صفیہ نے یہ خواب اپنے والد کو سنائی۔اس میں سورج کے اپنے سینے پر گرنے کا ذکر کیا۔والد نے ناراض ہو کر کہا کہ کیا تم اس بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔جس نے آکر ہمارا محاصرہ کر رکھا ہے۔25