اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 189
ازواج النبی 189 حضرت صفیہ حضرت صفیہ کے دل پر بظاہر ان چھوٹی باتوں کا بہت ہی گہرا اثر ہوا۔آپ بیان فرماتی ہیں " سفر میں آنحضرت علم کی بے پناہ شفقتیں مجھ پر ہوئیں۔میں اس وقت نو عمر لڑکی تھی دوران سفر ہودج میں بیٹھے بیٹھے کئی دفعہ ایسے ہوا کہ نیند سے آنکھ لگ جاتی اور میر اسر ہو رج کی لکڑی سے جاٹکراتا، آنحضرت بہت محبت اور پیار سے میرا سر تھام کر سہلاتے اور فرماتے "اے ٹیبی کی بیٹی ! اپنا خیال رکھو کہیں نیند یا اونگھ میں تمہیں کوئی چوٹ نہ لگ جائے " 2011 21 حضرت صفیہ کے خاندان کی اسلام دشمنی کے باوجود پیداشدہ انقلاب ! حضرت صفیہ کے دل کی جیت رسول اللہ لی ایم کی ایک عظیم الشان فتح تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہود اور خصوصاً حضرت صفیہ کے گھرانے میں اسلام کے لئے دشمنی کتنی شدید تھی۔دراصل یہودیوں کی کتابوں میں فاران کی پہاڑیوں سے ملک عرب میں ایک نبی کے جلوہ گر ہونے کی خبر تھی کہ جس کے ذریعے انہیں بادشاہت اور فتح نصیب ہوئی تھی۔اس موعود نبی کی کئی علامات ان میں مشہور تھیں، اور یہود کے کئی قبائل اس نبی کی تلاش میں مدینہ کے نخلستان میں آکر آباد ہوئے اور اسی امید میں اپنے بچوں کے نام بھی محمد رکھنے لگے۔مگر جب" وہ نبی" اپنی علامتوں کے مطابق آگیا تو انہوں نے اس لیے اس کا انکار کر دیا کہ وہ ان کے جد امجد حضرت ابراہیم کے بیٹے اسحاق کی اولاد سے نہیں بلکہ دوسرے بیٹے اسماعیل کی اولاد سے تھا۔اس لئے ان کے بڑوں نے اپنی سرداری نہ چھوڑنے اور اس نبی کی مخالفت کرنے کا تہیہ کر لیا۔حضرت صفیہ کے والد ٹھیبی اپنے قبیلہ کے سردار تھے۔ان کے بارہ میں خود حضرت صفیہ اپنے بچپن کی ایک معصوم اور سچی شہادت یوں بیان کرتی ہیں کہ "میرے والد اور میرے چا گھر کے بچوں میں سے سب سے زیادہ مجھ سے پیار کرتے تھے۔اور باقی بچوں کو چھوڑ کر سب سے پہلے لیک کر مجھے لیا کرتے تھے۔جب رسول اللہ صلی لی لی تم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے اور قباء میں قیام فرمایا تو ایک روز میرے والد حیی بن اخطب اور چا ابو یاسر بن اخطب علی الصبح ان کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے گئے۔شام کو جب واپس گھر لوٹے تو انکے چہرے اترے ہوئے تھے اور وہ لڑ کھڑاتے قدموں سے چلے آرہے تھے۔میں اپنی عادت کے مطابق لپک کر ان کی طرف بڑھی۔مگر اس روز ان دونوں نے میری طرف کوئی توجہ نہ کی۔مجھے لگا جیسا ان کے دل کسی غم سے بوجھل ہوں۔وہ سخت نڈھال