اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 172
ازواج النبی 172 رض حضرت اُ Arabia, Abu Sufyan was well able to look after her۔ترجمہ : آنحضرت علی کی کمی کے ازدواجی تعلقات کے دفاع میں بعض دفعہ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان تعلقات عامہ کا مقصد بیواؤں اور بوڑھی عورتوں کو سہارا دینا مد نظر تھا۔کیونکہ ایسی صورت میں انہیں ایک فطری محافظ کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ایسا ہی مقصد تھا تو آنحضور صلی علی اسلام کے عقد میں مزید خواتین کیوں نہ لائی گئیں۔تاہم ام حبیبہ (جو آپ کے عقد میں لائی گئیں : ناقل) بظاہر ایسی کسی مشکل میں نہ تھیں اور وہ حبشہ میں آرام سے زندگی گزار رہی تھیں اور عرب میں واپسی کی صورت میں ابو سفیان ان کی بخوبی دیکھ بھال کر سکتے تھے۔اس اعتراض کا تفصیلی جواب اس کتاب میں تعدد ازدواج کے مضمون میں دیا جا چکا ہے کہ رسول اله علی کریم کی تمام شادیاں مختلف وقتی و قومی مصالح کے تحت تھیں جن میں سے ایک اہم مصلحت بیوگان کا تحفظ بھی تھا۔اس حوالہ سے مزید بیوگان کو حرم میں شامل نہ کرنے کا اعتراض نہایت بودا ہے۔کیونکہ اسلامی شریعت میں نکاح کے احکام کے مطابق آنحضرت طی می کنیم اور آپ کے صحابہ کو بیوگان سے نکاح کرنے اور کروانے کی ہدایت تھی (النور:33) جس پر صرف آپ نے ہی نہیں آپ کے اصحاب نے بھی قربانی کرتے ہوئے عمل کر کے دکھایا۔جہاں تک حضرت ام حبیبہ سے شادی پر مسٹر کین کی طعنہ زنی کا تعلق ہے تو یہ اعتراض نہ صرف دیانت داری پر مبنی نہیں بلکہ تاریخ سے ناواقفیت کا نتیجہ بھی ہے۔تاریخ کا مطالعہ کرنے والا ایک عام طالب علم بھی جانتا ہے کہ کفار مکہ بالعموم مسلمان رشتہ داروں سے رشتے ناطے منقطع کر چکے تھے اور ان کے دلوں میں الا ما شاء اللہ مسلمان اولاد ، والدین یا بہن بھائیوں کے لئے کوئی نرم گوشہ باقی نہ رہا تھا کجا یہ کہ معاند اسلام ابوسفیان سے اپنی مسلمان بیٹی کی کفالت کی توقع کی جائے۔اگر وہ اتنا ہی ہمدرد ہوتا تو حضرت ام حبیبہ شکومکہ سے حبشہ ہجرت کی نوبت ہی کیوں پیش آتی۔دوسرے خود ام حبیبہ جو دین کی خاطر وطن اور ماں باپ کو چھوڑ چکی تھیں خود یہ بات انکی غیرت ایمانی کے خلاف تھی وطن اور شوہر کی قربانی دینے کے بعد حالتِ بیوگی میں دین اسلام چھوڑ کر پھر اپنے والد کی کفالت میں جانے کے متعلق وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔اور اگر ایسا کوئی