اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 171
ازواج النبی 171 رض حضرت اُم حضرت ام حبیبہ کی حبشہ سے مدینہ آمد 7 ہجری کا واقعہ ہے۔اس وقت ان کی عمر 36 برس کے قریب تھی۔اس زمانے میں کسی نے حضرت ام حبیبہ کے آنحضور عالم کے ساتھ نکاح کا ذکر جب ابو سفیان سے کیا اور کہا کہ آپ تو آنحضرت علی ایک یتیم کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں اور انہوں نے آپ کی بیٹی کے ساتھ شادی کر لی ہے۔اس نے اپنار ئیسانہ و قار قائم رکھتے ہوئے جواب دیا کہ بالآخر آنحضرت علی تم ایک معزز انسان ہیں۔اگر میری بیٹی نے ایک قابل احترام ہستی سے نکاح کیا ہے تو اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔بعد میں جب صلح حدیبیہ ہو گئی اور ابو سفیان مکہ سے مدینہ آئے۔اس موقع پر آنحضور طی یتیم سے اپنے مخصوص سردارانہ انداز میں کہنے لگے کہ میں نے آپ کو کیا چھوڑا سارے عرب نے ہی آپ کو چھوڑ دیا۔آنحضور نے مسکراتے ہوئے انہیں ان کی دوسری کنیت سے پکار کر فرمایا اے ابو حنظلہ ! یہ بات کم از کم آپ کو تو زیب نہیں دیتی۔حنظلہ ابوسفیان کا وہ بیٹا تھا جو غزوہ بدر میں کافر ہونے کی حالت میں مارا گیا تھا۔شادی میں حکمت مستشرق کینن سیل نے اپنی کتاب " دی لائف آف محمد " میں یہ اعتراض کیا ہے کہ نبی کریم ملی تم کی شادیوں کے دفاع میں جو یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ ایک سے زائد شادیاں بیو گان اور عمر رسیدہ خواتین کو تحفظ اور مدد فراہم کرنے کے لئے تھیں ، اگر ایسا ہی تھا تو بہت سی اور بیوگان بھی کیوں حرم نبی میں شامل نہ کی گئیں۔کم از کم حضرت ام حبیبہ کے بارہ میں یہ وضاحت درست نہیں۔کیونکہ انہیں تو ایسی کوئی دشواری نہ تھی وہ آرام و آسائش سے حبشہ میں آباد تھیں اور مکہ واپسی کی صورت میں بھی ان کے والد ابو سفیان (جو ایک رئیس تھے) بخوبی ان کی کفالت کے قابل تھے۔وہ لکھتا ہے۔It is sometimes argued in defence of the Prophet's matrimonial alliances that they were made with the object of supporting widows and old women and that in this case a natural protector was needed۔If this is so there seems no reason why many more were not admitted into the Prophet's harem۔Umm Habiba, however, does not appear to have been in any difficulty, she was comfortably settled in Abyssinia, and, in the case of her return to