اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 20
ازواج النبی 20 تعددازدواج چنانچہ خیبر کی فتح کے بعد تمام یہود نے وہیں رہنا پسند کیا " 33 11 عیاشی کے اعتراض کا جواب اور ازواج کی رسول اللہ ٹی ایم سے گہری محبت و فدائیت ! تعدد ازدواج کے بارہ میں رسول کریم ی ی ی نیم پر ایک اعتراض عیاشی اور نفس پرستی کا کیا جاتا ہے۔خصوصاً جو لوگ حضرت عائشہ کی کم سنی میں شادی پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں انہیں خیال کرنا چاہئے کہ وہ نو عمر اور چہیتی بیوی جن کے پاس نویں دن رسول اللہ علیم کی باری آتی ہے اور آپ ان سے پوچھ کر وہ رات بھی عبادت میں بسر کرتے ہیں جیسا کہ حضرت عائشہ کے مضمون میں تفصیل سے مذکور ہے۔پھر کیا یہ شادی محض نفس پرستی کیلئے قرار دی جاسکتی ہے؟ سید نا حضرت مصلح موعود اس غیر معقول اعتراض کو ر ڈ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کی کئی بیویاں تھیں اور یہ کہ آپ کا یہ فعل نعوذ باللہ من ذالک عیاشی پر مبنی تھا۔مگر جب ہم اس تعلق کو دیکھتے ہیں جو آپ کی بیویوں کو آپ کے ساتھ تھا تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ آپ کا تعلق ایسا پاکیزہ ، ایسا بے لوث اور ایسار وحانی تھا کہ کسی ایک بیوی والے مرد کا تعلق بھی اپنی بیوی سے ایسا نہیں ہوتا۔اگر رسول اللہ ی ی ی یتیم کا تعلق اپنی بیویوں سے عیاشی کا ہوتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہئے تھا کہ آپ کی بیویوں کے دل کسی روحانی جذبہ سے متاثر نہ ہوتے۔مگر آپ کی بیویوں کے دل میں آپ کی جو محبت تھی اور آپ سے جو نیک اثر انہوں نے لیا تھاوہ بہت سے ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں کے متعلق تاریخ سے ثابت ہیں۔مثلاً یہی واقعہ کتنا چھوٹا سا تھا کہ میمونہ رسول کریم ملی تم سے پہلی دفعہ حرم سے باہر ایک خیمہ میں ملیں۔اگر رسول اللہ صلی لا یتیم کا ان سے تعلق کوئی جسمانی تعلق ہوتا اور اگر آپ بعض بیویوں کو بعض پر ترجیح دینے والے ہوتے تو میمونہ اس واقعہ کو اپنی زندگی کا کوئی اچھا واقعہ نہ سمجھتیں بلکہ کوشش کرتیں کہ یہ واقعہ ان کی یاد سے بھول جائے۔لیکن میمونہ رسول کریم ایم کی وفات کے بعد پچاس سال زندہ رہیں اور اسی سال کی ہو کر فوت ہوئیں۔مگر اس برکت والے تعلق کو وہ ساری عمر بھلا نہ سکیں۔اتنی سال کی عمر میں جب جوانی کے جذبات سب سرد ہو چکے ہوتے ہیں رسول اللہ علی ایم کی وفات کے پچاس سال بعد جو عرصہ ایک مستقل عمر کہلانے کا مستحق ہے میمونہ فوت ہوئیں۔اور اس وقت انہوں نے اپنے گرد کے لوگوں سے درخواست کی کہ جب میں مر جاؤں تو مکہ کے باہر