اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 19
ازواج النبی 19 تعددازدواج پانی پلانے اور مرہم پٹی کی خدمات سر انجام دیں۔حدیبیہ اور سفر فتح مکہ میں حضرت ام سلمہ آپ کے ساتھ 30 عرب لوگ گھر کے معاملات میں عورت کی رائے کو کوئی وقعت نہ دیتے تھے۔آنحضرت علی ہم نے عورت کو گھر کی نگران قرار دے کر اسے گویا حکومت کے تخت پر بٹھا دیا۔آپ ذاتی اور قومی معاملات میں بھی اپنی ازواج سے مشورہ لیتے تھے جیسا کہ غزوہ حدیبیہ میں حضرت ام سلمہ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے آپ نے اپنی قربانی ذبح کرنے کا نمونہ اپنے اصحاب کو دیا تو صحابہ نے بھی دھڑادھڑ قربانیاں ذبح کر دیں۔دیگر قوموں سے تعلقات رسول کریم اینم کی شادیوں کی تیسری بڑی غرض بحیثیت بادشاہ دیگر اقوام سے تعلقات قائم کرنا تھا۔چنانچہ فتح خیبر کے موقع پر یہود کی شہزادی حضرت صفیہ سے آپ کے عقد کی وجہ یہود سے تالیف قلبی تھی کہ یہ بات انہیں اسلام کے قریب لانے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔حضور علی علی کریم نے قومی مفاد میں اپنے اصحاب کا یہ مشورہ قبول کرتے ہوئے حضرت صفیہ کو آزاد کر کے اپنے حرم میں شامل فرمایا۔اور غلامی سے آزادی کو ان کا حق مہر قرار دیا۔اسی طرح سر دار مکہ ابوسفیان کی بیٹی حضرت ام حبیبہ اور بنو مصطلق کے سردار حارث کی بیٹی حضرت جویریہ اور مصر کی شہزادی حضرت ماریہ قبطیہ کے ساتھ عقد ہوا تھا۔اسی دستور کے مطابق قدیم زمانے سے شادیوں کا رواج تھا۔بائبل کے مطابق حضرت سلیمان نے بھی اس مقصد کی خاطر فرعون مصر کی بیٹی سے شادی کی تھی جس کے باعث بنی اسرائیلوں کو مصر سے حملہ کا خطرہ نہ رہا۔حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح الاول غزوہ خیبر میں یہودی سردار کی اٹھارہ 18 سالہ بیٹی حضرت صفیہ کو قیدیوں میں پاکر اس سے خود شادی کر لینے کے ولیم میور کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے 31 32 فرماتے ہیں:۔"مسٹر میور (Muir) نے اعتراض کیا مگر وہ جانتانہ تھا کہ ملک عرب میں دستور تھا کہ مفتوحہ ملک کے سردار کی بیٹی یا بیوی سے ملک میں امن و امان قائم کرنے اور اس ملک کے مقتدر لوگوں سے محبت پیدا کرنے کے لئے شادیاں کیا کرتے تھے۔تمام رعایا اور شاہی کنبہ والے مطمئن ہو جایا کرتے تھے کہ اب کوئی کھٹکا نہیں۔