اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 313
اولاد النبی 313 حضرت امام حسن فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لیے جاتا ہے اور اس کی ضرورت پوری کرتا ہے تو اس کے لیے ایک حج اور عمرہ کا ثواب لکھا جاتا ہے اور اگر وہ اس کی ضرورت پوری نہ کر سکے تو عمرہ کا ثواب لکھا جاتا ہے۔اور میں نے حج و عمرہ دونوں کما لیے اور واپس آکر اپنا طواف بھی کر رہا ہوں۔عفو و کرم کا نمونہ 64 حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت امام حسنؓ کے عفو و کرم کا ایک غیر معمولی واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔" کہتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نوکر چاء کی پیالی لایا۔جب قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالی آپ کے سر پر گر پڑی۔آپ نے تکلیف محسوس کر کے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا۔غلام نے آہستہ سے پڑھا۔وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ ( آل عمران : 135 ) یہ سُن کر امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا كَظمت غلام نے پھر کہا وَ الْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ نظم میں انسان غصہ دبالیتا ہے اور اظہار نہیں کرتا ہے، مگر اندر سے پوری رضامندی نہیں ہوتی، اس لئے عفو کی شرط لگا دی ہے۔آپ نے کہا کہ میں نے عفو کیا۔پھر پڑھا واللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنینَ۔محبوب الہی وہی ہوتے ہیں جو کظم اور عفو کے بعد نیکی بھی کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا: جا آزاد بھی کیا۔راستبازوں کے نمونے ایسے ہیں کہ چائے کی پیالی گراکر آزاد ہوا۔اب بتاؤ کہ یہ نمونہ اصول کی عمدگی ہی سے پیدا ہوا " خوش گفتاری 65 11 حضرت امیر معاویہؓ کہا کرتے تھے کہ میرے ہاں کلام کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ کلام حضرت امام حسنؓ کا تھا جسے سن کر خواہش ہوتی تھی کہ وہ بولتے چلے جائیں۔میں نے ان سے کبھی کلام کے دوران سخت کلمہ نہیں سنا سوائے ایک موقع کے جب ان کے بھائی حضرت حسینؓ کی ایک زمین کا تنازعہ عمر و بن عثمان سے تھا۔اس موقع پر حضرت امام حسنؓ نے ایک فقرہ کہا کہ " ہمارے پاس اس کے لیے کچھ نہیں سوائے اس چیز کے جس سے اس کی ناک مٹی میں ملے "۔اس سے زیادہ اور کوئی سخت کلمہ آپ نے میرے سامنے نہیں بولا۔66 زریق بن سوار بیان کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن اور مروان کے مابین اختلاف تھا۔مروان سخت کلامی