اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 271 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 271

اولاد النبی 271 حضرت ام کلثوم بنت محمد ہجرت مدینہ انہی حالات کی وجہ سے اللہ تعالی کی جانب سے حبشہ ہجرت کا حکم ملا اور پھر خود آنحضرت میں یہ ہم بھی مدینہ ہجرت کر کے چلے گئے۔حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ مکہ میں ہی رہ گئی تھیں۔چنانچہ نبی کریم نے مدینہ سے حضرت زید بن حارثہ کی سر کردگی میں چند افراد کو مکہ بھجوایا جو خاموشی اور حکمت عملی کے ساتھ نبی کریم ا یتیم کی صاحبزادیوں کو مدینہ لے آئے۔حضور علی الم جب مدینہ پہنچے تو آپ نے حضرت ابوایوب کے گھر قیام فرمایا۔آپ نے حضرت ابو بکرؓ سے بطور قرض لے کر حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابو رافع کو دو اونٹ اور پانچ سو درہم فراہم کئے اور ان دونوں کو اپنے باقی ماندہ اہل بیت کو لانے کیلئے مکہ روانہ کیا۔حضرت ابو بکر نے ان دونوں کے ساتھ عبد اللہ بن اریقط الد کلی کو بھی دو یا تین اونٹ دیکر بھیجا اور اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن ابو بکرؓ کو لکھا کہ وہ بھی اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر ان کے ہمراہ آجائیں۔حضرت زید نے آنحضور علی ایم کے اہل بیت میں سے ام المومنین حضرت سودہ ، حضرت فاطمہ اور حضرت ام کلثوم کو ساتھ لے کر مکہ سے مدینہ کے لئے روانہ ہو نا تھا۔اہل بیت کے ان افراد کے ساتھ حضرت زید کی بیوی حضرت ام ایمن اور بیٹا اسامہ بھی تھے۔حضرت زید نے اپنے ساتھ حضرت زینب بنت رسول کو بھی لیکر جانا چاہا لیکن کفار قریش نے ان کو روک لیا۔حضرت رقیہ اپنے شوہر ย حضرت عثمان بن عفان کے ساتھ اس سے قبل ہی حبشہ اور پھر مدینہ کی طرف ہجرت کر چکی تھیں۔حضرت زید بن حارثہ نے مکہ پہنچتے ہی واپسی سفر کا انتظام کیا اور اپنی بیوی حضرت ام ایمن ، اپنے بیٹے اسامہ اور رسول اللہ صلی یتیم کے اہل و عیال کے ساتھ مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے۔جبکہ حضرت عبد اللہ بن ابو بکر اپنی والدہ حضرت ام رومان اور اپنی دو بہنوں حضرت عائشہ اور حضرت اسماء کو لیکر نکلے۔یہاں تک کہ خیر وعافیت سے مدینہ پہنچ گئے۔رسول اللہ لی ہم اس وقت مسجد نبوی اور اسکے ارد گرد گھر بنا رہے تھے ، آپ نے اپنے ان اہل خانہ کو حضرت حارثہ بن نعمان کے گھر میں ٹھہرایا۔حضرت عثمان سے شادی 5 حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رقیہ کی وفات کے بعد نبی کر یم لم وحی الہی کی بناء پر حضرت عثمان کو مسجد کے دروازے پر ملے اور فرمایا اے عثمان ! یہ جبرائیل ہے جس نے مجھے خبر دی ہے کہ