اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 214 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 214

ازواج النبی 214 حضرت ماریہ رض صاحبزادہ ابراہیممؑ کی وفات پر سورج گرہن ہوا تو بعض لوگوں نے اسے آنحضور می یتیم کے اس صاحبزادے کی وفات کی مناسبت سے ایک نشان قرار دیا۔رسول اللہ سی می کنیم نے واضح فرمایا چاند سورج گرہن 2811 27 کسی کی وفات پر نہیں ہوتے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے ہیں پس اٹھو اور نماز کسوف ادا کرو۔رسول اللہ لی لی ہم نے اس معصوم بچے کی تدفین کے لئے خاص جگہ کی تعیین کرتے ہوئے فرمایا ہم اپنے اس بچے کو اس کے پیشر و حضرت عثمان بن مظعون کے پہلو میں دفن کریں گے۔"رسول اللہ علیم کے چا زاد حضرت فضل بن عباس نے صاحبزادہ ابراہیمؑ کو غسل دیا اور ان کی قبر میں ان کے ساتھ حضرت اسامہ بن زید بھی اترے۔جبکہ رسول اللہ لی تم قبر کے کنارے تشریف فرمار ہے۔قبر کی تیاری کے دوران رسول کریم ال لال ہم نے دیکھا کہ کچھ سوراخ باقی رہ گئے ہیں۔آپ نے توجہ دلا کر ان کو بند کر وا دیا اور فرمایا " اس سے مرنے والے کو تو کوئی فائدہ یا نقصان نہیں لیکن زندوں کی آنکھ اس سے ٹھنڈی ہوتی ہے۔اور بندہ جب کوئی کام کرتا ہے تو اللہ تعالی پسند کرتا ہے کہ وہ اس کام کو عمدہ کر کے مکمل کرے " حضرت ماریہ زوجہ رسول حضرت ماریہ کے بارہ میں بعض محدثین ،اہل سیر اور مؤرخین کی عمومی رائے یہ ہے کہ وہ رسول للہ علیم کی ملک یمین سریہ یا لونڈی کے طور پر تھیں۔صاحبزادہ ابراہیم کی پیدائش کے بعد وہ بطور ام ولد آزاد ہوئیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علی تم نے صاحبزادہ ابراہیم کی ولادت پر حضرت ماریہ کے بارہ میں فرمایا کہ اس کے بیٹے نے اسے آزاد کر دیا۔لیکن بعض محدثین نے اس حدیث کے بعض راویوں کے ضعیف ہونے کے باعث اسے رد کیا ہے۔اس روایت کو قبول کرنے کی صورت میں بھی اس کا زیادہ سے زیادہ مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی رائج الوقت دستور کے مطابق اتم ابراہیم کو کنیز ہی سمجھتا تھا تو بیٹے کی ولادت نے اس پر بھی اتمام حجت کر دی ہے کہ اب انہیں آزاد تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔وہ بطور زوجہ رسول اللہ علیم کے حرم میں نہ بھی آتیں تو بھی بچے کی ولادت کے ذریعہ انہوں نے آزاد ہونا ہی تھا گویا حضرت ماریہ کے ہاں اولاد ہونے پر یہ اظہار مسرت کا ایک انداز تھا۔