اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 215
ازواج النبی 215 حضرت ماریہ رض حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت ماریہ کے زوجہ یا کنیز ہونے کے معاملہ کو ایک اختلافی امر قرار دیا اگرچہ سیرت خاتم النبیین کے ناتمام رہ جانے کے باعث ہم اس بارہ میں انکی تفصیلی تحقیق سے محروم ہیں۔حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب خلیفہ المسیح الاؤل نے سور کاحزاب کی آیت 53 کی تفسیر میں حضرت ماریہ کو لونڈی قرار دیا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِ شَيْءٍ رَقِيبًا ( احزاب: 53)اس کے بعد تیرے لیے (اور ) عورتیں جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ ان (بیویوں) کے بدلے میں تو اور بیویاں کر لے خواہ ان کا حسن تجھے پسند ہی کیوں نہ آئے۔مگر وہ مستثنیٰ ہیں جو تیرے زیر نگیں ہیں اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اوّل فرماتے ہیں کہ "جس وقت یہ آیت اتری اس وقت حضرت کے نکاح میں نو بیبیاں۔۔۔تھیں۔مگر لونڈی رکھنے کی اجازت تھی۔چنانچہ مقوقس بادشاہ مصر نے آپ کو مار یہ لونڈی ہدیہ بھیجی"۔حضرت خلیفہ اول نے مسند خلافت پر متمکن ہونے سے پہلے اپنی کتاب فصل الخطاب میں بھی عیسائی پادریوں کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے عام روایات کے مطابق حضرت ماریہ کو آنحضرت علی علی ایم کی 32 33 سریہ بی بی اور ام الولد (یعنی آپ کے صاحبزادہ کی ماں بننے کے نتیجے میں آزاد ہونے والی) بیان فرمایا ہے۔سورۂ احزاب کی آیت 53 کی وضاحت میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بھی ماریہ کو ایسی لونڈی قرار دیا ہے جسے رسول اللہ صلی ھیں کہ تم نے اپنے نکاح میں لے لیا تھا۔لونڈی سے نکاح کے ثبوت کے لیے حضرت خلیفہ ثانی کا بیان فرمودہ یہ اصول بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اگر وہ (لونڈیاں) مکاتبت کا مطالبہ نہ کریں تو ان کو بغیر نکاح کے اپنی بیوی بنانا نا جائز ہے یعنی نکاح کے لیے ان کی لفظی اجازت کی ضرورت نہیں۔" آپ مزید فرماتے ہیں کہ حضرت ماریہ کو مقوقس شاہِ مصر نے اپنے ملک کے رواج کے مطابق لونڈی کے طور پر تحفہ رسول کریم ملی نیم کی خدمت میں بھیجا تھا۔پس وہ اس آیت کے حکم سے باہر ہیں اور ان سے بھی رسول اللہ صلی علی یتیم کا نکاح ثابت ہے۔آیت 51 اور 53 دونوں میں رسول اللہ یتیم کے لیے لونڈی کی جو اجازت ہے اس کے بارے میں حضرت خلیفہ ثانی کی رائے ہے کہ رسول کریم نے اس اجازت سے فائدہ نہیں سن ہے رسول کریم نے اس اجازت کو سورۃ الانفال کے اس حکم سے مشروط سمجھا ہو کہ "کسی نبی اٹھایا۔