آغاز رسالت

by Other Authors

Page 19 of 23

آغاز رسالت — Page 19

۱۹ وحی کا سلسلہ رک جانے اور عظیم الشان کام کی اہمیت کے احساس سے آپ فکر مند رہتے۔فرائض کی بجا آوری میں پورا اتر نے کا بوجھ بھی تھا۔طبیعت کا انکسار اور عاجزانہ مزاج اس کیفیت میں خوف اور مایوسی کا رنگ بھر دیتا۔اللہ تعالیٰ کی عظمت اور غناء کو دیکھتے ہوئے کوتا ہی ہو جانے کے ڈر سے ناراضگی کا ڈر بھی تھا۔حدیث میں آتا ہے کہ آپ کو کشفی نظاروں میں دکھائی دیتا کہ آپ پہاڑ کی چوٹیوں سے خود کو گرانا چاہتے ہیں۔ایسے میں فرشتہ آواز دیتا۔يا محمد إنَّكَ أَنتَ رسول الله حقا اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اللہ تعالیٰ کے پیچھے رسول ہیں۔اس آواز سے آپ اپنا ارادہ ترک فرما دیتے۔(بخاری کتاب التعبیر) آپ کا وقت زیادہ تر غار حرا ہی میں گزرتا۔ایک دن آپ حرا سے اپنے گھر واپس آرہے تھے کہ اچانک ایک آواز آئی گویا کوئی شخص آپ کو مخاطب کر رہا ہے۔آپ نے آگے پیچھے دائیں بائیں سب طرف دیکھا مگر کچھ نظر نہ آیا۔آخر آپ نے اوپر نظر اٹھائی تو کیا دیکھتے ہیں کہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک عظیم الشان کرسی پر وہی فرشتہ بیٹھا ہے جو غار حرا میں آپ کو نظر آیا تھا۔آپ نے یہ نظارا دیکھا تو سہم گئے اور گھبرائے ہوئے جلدی جلدی گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ سے فرمایا۔دَبِرُونِي دَرُوني مجھ پر کوئی کپڑا ڈھانک دو۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جلدی سے کپڑا اوڑھا دیا۔آپؐ کپڑا اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ ایک پیر جلال آواز آپؐ کے کانوں میں آئی۔