آغاز رسالت — Page 14
سامنے ظاہر ہوا۔فرشتے نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا۔اقرأ یعنی منہ سے بول میری بات دہرا اور پھر اُسے لوگوں تک پہنچا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مَا اَنَا بِقَارِئُ میں تو پڑھ نہیں سکتا۔یعنی میں توخود کو اتنا بڑا کام کرنے کے قابل نہیں سمجھتا۔فرشتے نے یہ جواب سنا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا اور زور سے سینے سے لگا لیا اور پھر چھوڑ کر کہا۔س کی کہا اقرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا۔فرشتے نے آپ کو پھر کپڑا اور زور سے سینے سے لگا کہ بھینچا اور پھر چھوڑ اِقْرَأْ مگر آپ کا دیہی تامل تھا اس پر اُس ربانی رسول نے آپ کو تیسری دفعہ بھینچا۔گویا اپنی انتہائی کوشش سے آپ کے دل پر اثر ڈالا۔آپ فرماتے ہیں۔حَتَّى بَلَغَ مِي الجُهْدُ میری مقابلہ کی طاقت ختم ہو گئی۔فرشتے کو ستی ہو گئی کہ اب آپ خود کو اس پیغام کے لئے آمادہ کر لیں گے۔آپ کو چھوڑ اور اللہ پاک کا لایا ہوا پیغام آپ کو پڑھایا۔إقراء باسم تِكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ