عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 37

عالم حيوانات 37 گوشت خور بھی بن سکتا ہے اور سبزی خور بھی۔یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ انسانی دانت بھی دونوں قسم کی غذاؤں کے مطابق اپنا کام سرانجام دے سکتے ہیں۔انسانوں اور جانوروں کے رویہ میں ایک اور بہت بڑا فرق یہ بھی ہے کہ بعض صورتوں میں انسان جانوروں سے کہیں بڑھ کر درندگی پر اتر سکتا ہے۔درندے اپنی نوع کے جانوروں کو ہر گز نہیں کھاتے لیکن انسان ایسا کر سکتا ہے۔چنانچہ افریقہ کے بعض انتہائی پسماندہ علاقوں میں آج بھی آدم خورانسان پائے جاتے ہیں۔وہاں ایسے قبائل ہیں جو سرحد پار قبائیلیوں کو گوشت کھانے کی نیت سے پکڑتے اور مار ڈالتے ہیں۔یہ عظیم الشان جشن ڈھول کی تھاپ پر منایا جاتا ہے۔شیروں، بھیڑیوں اور کتوں میں بھی اپنے ہم جنسوں کیلئے ایسا سلوک کہیں دکھائی نہیں دیتا یہاں تک کہ خواہ وہ بھوکوں مر رہے ہوں پھر بھی وہ اپنے ہم جنسوں کو نہیں کھاتے۔بظاہر نظر آنے والی انسانی کردار کی اس خصوصیت کا گہرائی میں جا کر جائزہ لینا چاہئے مبادا ہم اس سے غلط نتائج اخذ کر بیٹھیں۔انسان کا اپنی ہی نوع کا گوشت نہ کھا نامحض جبلی رویہ نہیں۔در حقیقت وہ چاہے تو ایسا کر بھی سکتا ہے۔فطرت کا کوئی قانون اس قبیح فعل کے کرنے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔یہ تو محض اقدار کی ایک اعلیٰ اور بلند منزل ہے جو اکثر لوگوں کو ایسے شفیع افعال سے باز رکھتی ہے۔اس نکتہ کی مزید وضاحت کیلئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ عین ممکن ہے کہ ہم جنسوں کو نہ کھانے کے رجحان کے اعتبار سے ایک شیر انسان کی نسبت زیادہ مہذب دکھائی دے لیکن ضروری نہیں کہ ہم اس سے کوئی نتیجہ اخذ کر سکیں۔شیر تو محض اپنی جبلت کے مطابق کام کرتا ہے اور اپنے معین طرزعمل سے انحراف نہیں کرتا جبکہ انسان نے بہر حال اپنا رستہ خود چنا ہوتا ہے۔انعام کا استحقاق بھی ہوتا ہے جب اس کے پاس انتخاب کا اختیار ہو۔اگر اختیار ہی حاصل نہ ہو تو انعام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن جہاں پر اختیارات موجود ہوں وہاں پر حقوق و فرائض اور مناسب نامناسب وغیرہ کیلئے ایک ضابطہ اخلاق کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ درست انتخاب کیلئے انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، اس لئے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں رسم و رواج، عادات واطوار، روایات اور اقدار نیز سماجی پس منظر مختلف ہوتا ہے۔الہی تعلیمات کی یہ فلاسفی دنیا کے تمام بڑے بڑے مذاہب میں پائی جاتی ہے۔پس تربیت کا ایک طویل، تدریجی اور پر پیچ سفر ہے جس کے ذریعے انسان بالآخر انسانی رویہ کی منزل تک پہنچا ہے اور یہی انسانی طرز عمل، انسان کو ادنی حیوانات سے ممتاز کرتا ہے۔اس سفر میں انسان نے محض وہی اقدار نہیں سیکھیں جن کا تعلق عدل