عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 36
36 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول ہے۔یہ شعور انسان کو اس بلند تر کردار کے ادا کرنے کیلئے تیار کرتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھا ہوا ہے اور ساتھ ساتھ لامحدود ترقی کی اہلیت بھی اس میں پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔یہ نئی استعداد انسان اور اس کے خالق کے مابین پل کا کام دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمکلام ہونے کا ذریعہ بنتی ہے۔جہاں تک انسانی بقا کیلئے خوراک کا تعلق ہے تو وہ بالقوہ گوشت خور بھی ہوسکتا ہے اور سبزی خور بھی۔زمانہ قدیم سے گوشت انسانی خوراک کا ایک لازمی جزو رہا ہے، بایں ہمہ وہ صرف سبزیاں کھا کر بھی زندہ رہ سکتا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی ارتقا میں وسعت کی سمت کیا ہے۔اس کے علاوہ ایک اہم سماجی اور اخلاقی سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔انسان کا یہ اہم امتیازی وصف بھی مدنظر رہنا چاہئے کہ اسے یہ اختیار بخشا گیا ہے کہ وہ چاہے تو اپنی جبلی خواہشات کی پیروی کرے اور چاہے تو ان کی پیروی سے انکار دے۔جب ہم انسان کو حاصل اختیارات اور ان کے استعمال کا دوبارہ جائزہ لیتے ہیں تو قانون سازی اور ایک ضابطہ اخلاق کی ضرورت صاف ظاہر ہو جاتی ہے۔اب ہم دوبارہ اسی مسئلہ کی طرف آتے ہیں جو انسانی بقا کیلئے خوراک کے استعمال سے متعلق ہے اور جانوروں کا گوشت کھانے کے سوال پر پھر غور کرتے ہیں۔اگر انسان کو اس کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا تو وہ اپنی بقا کے بنیادی تقاضے کی تعمیل اور اپنے ذوق کی تسکین کی خاطر کسی بھی جانور کو اپنا شکار بنا سکتا تھا اور یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک شخص کا ذوق دوسروں جیسا ہی ہو، لہذا ایسی صورت حال میں پسند کا دائرہ بہت زیادہ وسیع ہو جاتا ہے یہاں انسان کے جبلی اوصاف کا جانوروں کی ادنیٰ حالتوں سے موازنہ کرنے کا بھی ایک اچھا موقع ملتا ہے۔عالم حیوانات میں کھانے پینے کی عادات معین ہیں اور جانوروں کے عمومی رویہ میں ان کے ذوق کے انفرادی تنوع کا کردار بہت معمولی ہے۔تاہم انسانوں میں غذا اور پسند نا پسند کے وسیع تنوع نے ان کی کھانے پینے کی عادات کو بہت پھیلا دیا ہے۔انسان ارتقا کی ایک ایسی منزل پر پہنچ چکا ہے کہ باوجود گوشت خوری کی خواہش کے ، وہ دوسری چیزیں کھا کر کنٹرول بھی کر سکتا ہے اور اپنی اس خواہش کو دبا بھی سکتا ہے جو کہ دیگر جانوروں سے ایک بالکل مختلف رویہ ہے۔اس کی ترقی یافتہ چینی استعداد میں اور آگہی کا وسیع دائرہ اس کے لئے ایک بلند تر مقصد کی خاطر اپنی اندرونی خواہشات کو قربان کرنا ممکن بنا دیتا ہے۔اور باوجود گوشت خوری کی شدید خواہش کے کسی متبادل چیز میں تسکین پالیتا ہے اور اس خواہش کے سامنے جھکنے سے وہ خود کو روک سکتا ہے۔جانور تو محض اپنے وجدان کے تابع ہوتے ہیں جبکہ انسان اپنا راستہ خود پسند کرتا ہے۔وہ