عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 38
38 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول کے زمرہ سے ہے۔بلکہ احسان اور ایتاً و ذی القربی کے سبق بھی سیکھے ہیں۔اس سے اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ کے معنوں پر بھی روشنی پڑتی ہے جس میں انسان کی لامحدود ترقیات اور انعامات کا ذکر ہے جو اس کے طرز عمل کو مزید بہتری اور لطافت عطا کرتے ہیں۔لیکن اس کا سارا انحصار صحیح رستہ کے انتخاب پر ہے۔اگر انسان صحیح انتخاب کرتا ہے تو مسلسل ترقی کرتا چلا جائے گا لیکن اگر وہ کسی وقت انتخاب کی آزادی کا غلط استعمال شروع کر دے تو لازماً قعر مذلت میں گرتا چلا جائے گا جس کا سب سے نچلا درجہ آسفل سفلین ہے۔وہ اتنا بے رحم اور خود غرض ہوسکتا ہے کہ درندوں سے بھی بدتر ہو جائے۔اس کے باوجود انسان کے اندر یہ غیر معمولی صلاحیت بھی ہے کہ وہ ترقی کرتے کرتے ایسے اعلیٰ مقام پر فائز ہو جائے جو عالم حیوانات میں اور کہیں دکھائی نہیں دیتا۔انسان عدل و انصاف اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے ایتا عذی القربیٰ کا اعلیٰ ترین مقام حاصل کر سکتا ہے جہاں وہ ذاتی مفاد یا ذاتی آرام کو ان لوگوں کی خاطر بھی قربان کر دیتا ہے جو در حقیقت اس کے قریبی رشتہ دار بھی نہیں ہوتے۔ہم اس بارے میں کئی ایک مستثنیات بیان کر چکے ہیں۔ایک قدرے مختلف استثناء بعض ایسے بدخصلت انسانوں میں دکھائی دیتا ہے جو بلا کسی مجبوری کے معصوم بچوں کو صرف ان کا گوشت کھانے کیلئے مار ڈالتے ہیں۔بچوں پر تشدد بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔یہاں اس امکانی خطرہ کے متعلق قرآنی انتباہ کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ انسان أَسْفَلَ سَفِلِينَ بن سکتا ہے۔ایک گروہ کی شکل میں بھی انسان محض مذہبی اور سیاسی اختلافات کے باعث دیگر بنی نوع انسان کو ظلم وستم کا نشانہ بناتا ہے۔چنانچہ جب کبھی متعصب اور پست ذہنیت رکھنے والے ملاں یا بد اخلاق اور ظالم سیاستدان بر سر اقتدار آتے ہیں تو عدل و انصاف سے کلیہ عاری ہو جاتے ہیں۔سین کی عدالت INQUISITION اس کی ایک بڑی واضح مثال ہے۔ازمنہ وسطی کی اسلامی تاریخ میں بھی ایسی کئی تکلیف دہ مثالیں موجود ہیں کہ جب محض مذہبی اختلاف کی بناء پر ملاؤں نے لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارا اور حکومتیں خاموش رہیں۔ایسی بہیمانہ حرکات کو سرسری نظر سے دیکھنے سے ہی دل دہل جاتے ہیں۔ظلم وستم کا یہ سلسلہ ابھی اختتام کو نہیں پہنچا بلکہ آج بھی جاری و ساری ہے اور کوئی نہیں کہ سکتا کہ انسان ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اب اس کے وحشیانہ حالت کی طرف لوٹ جانے کا کوئی احتمال باقی نہیں رہا۔خود جماعت احمدیہ کو جس طرح مذہب کے نام پر بار بار انتہائی مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس کے بعد محققین کیلئے ضروری نہیں کہ وہ ایسے شواہد کی تلاش میں تاریخ کی ورق گردانی کرتے پھریں۔