عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 25
زمین کا ماحولیاتی نظام مقناطیسی کرہ ہوائی: (The Magnatosphere) 25 یہ کرہ ہوائی کا وہ حصہ ہے جہاں آیونائزیشن (Ionization) کے باعث پیدا ہونے والا مقناطیسی عمل اور موصلیت، چارج شدہ ذرات کے خواص کا تعین کرنے کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔اس کا کام بے انتہا فلکیاتی توانائی کو جذب کرنا اور اس کے بیشتر حصہ کوزمین پر پہنچنے سے روکنا ہے۔فلکیاتی (cosmic) شعاعیں بنیادی طور پر دو قسم کی ہوتی ہیں ایک ابتدائی اور دوسری ثانوی۔ابتدائی شعاعوں کا بڑا حصہ پروٹونز یعنی ہائیڈ روجن کے نیوکلیس اور الفاذرات یعنی بیلیم کے نیوکلیس پر مشتمل ہوتا ہے۔ان ابتدائی شعاعوں میں سے اکثر قریباً ایک کھرب الیکٹران وولٹ توانائی کی حامل ہوتی ہیں۔اگر چہ ان میں کچھ شعاعیں سورج سے بھی نکلتی ہیں لیکن ان کی اکثریت کے ماخذ زمین سے بہت دور ہیں۔ممکن ہے کہ سپرنووا یعنی وہ ستارے جہاں بڑے بڑے دھماکے ہورہے ہیں، ان کا ماخذ ہوں۔اسی طرح ممکن ہے کہ سب سے زیادہ توانائی کی حامل شعاعیں ہماری کہکشاں کے باہر سے آ رہی ہوں۔کچھ ابتدائی فلکیاتی شعاعیں زمین کے کرہ ہوائی میں داخل ہو کر جب آکسیجن اور نائٹروجن کے نیوکلیس کے ساتھ ٹکراتی ہیں تو ثانوی فلکیاتی شعاعوں کا باعث بنتی ہیں۔یہ ثانوی فلکیاتی شعاعیں ایٹم کے چھوٹے چھوٹے ذرات یعنی الیکٹران ، پوزیٹرون، میسنز ، نیوٹرون اور فوٹون پر مشتمل ہوتی ہیں۔توانائی سے بھر پور یہ ثانوی شعاعیں کرہ ہوائی میں موجود دیگر نیوکلیس کے ساتھ تعامل کے ذریعہ مزید ثانوی فلکیاتی شعاعیں پیدا کرتی ہیں۔یکے بعد دیگرے ایسے مسلسل ٹکراؤ کے نتیجہ میں یہ شعاعیں تعداد میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں جسے اصطلاحاً شعاعوں کی آبشار“ کہا جاتا ہے۔فلکیاتی شعاعوں کی طرف سائنسدانوں کی توجہ اصل میں اس لئے مبذول ہوتی تھی کہ قدرت کا یہ مظہر ان کی عقلوں کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا۔ان شعاعوں کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ زمین پر زندگی کی بقا کیلئے قائم نظام پر کئی طرح سے اثر انداز ہوتی ہیں۔درحقیقت انسانی زندگی کا دارو مدار بڑی حد تک ثانوی فلکیاتی شعاعوں پر ہے۔پودوں میں کلوروفل بنانے میں یہ بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔کلوروفل وہ مادہ ہے جو پودوں کو سبز رنگ عطا کرتا ہے۔ضیائی تالیف میں بھی ان شعاعوں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔یہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے کاربن، آکسیجن اور ہائیڈ روجن جیسے عناصر کو نامیاتی مادوں میں تبدیل کیا جاتا ہے جن سے آگے پھر نباتات کی تمام شکلیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔جڑوں سے لے کر پتوں ، پھولوں اور پھلوں کی ڈنڈیوں تک سب کچھ