عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 24
24 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول بالا ئی کرہ ہوائی: (The Stratosphere) بالا ئی کرہ ہوائی کی تعریف کیلئے ولیم وین ڈر نجل (William Van Der Bijl) کا ایک اقتباس ذیل میں درج کیا جاتا ہے: وو چار ہوائی کروں میں سے نیچے سے دوسری تہ Stratosphere یعنی بالائی کرہ ہوائی ہے جس کے نچلے کنارہ کو Tropopause کہتے ہیں اور اوپر والے کنارہ کو Stratopause کہتے ہیں۔Tropopause میں عموداً حرکت کریں تو درجہ حرارت اور موسم میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جبکہ بالائی کرہ ہوائی میں موسم تبدیل نہیں ہوتا بلکہ جیسے جیسے اوپر جاتے جائیں درجہ حرارت بڑھتا چلا جاتا ہے۔بالائی کرہ ہوائی میں ہوا کی حرکت بڑی حد تک افقی ہوتی ہے۔بالائے بنفشی شعاعوں کے اوزون میں انجذاب کے باعث بالا ئی کرہ ہوائی کا درجہ حرارت بلند ہوتا ہے جو کہ بالعموم سطح ارض سے (4)،، اوپر 48 تا 53 کلومیٹر یا 30 تا 33 میل کے مابین ہوتا ہے۔4 یہ دو ہوائی کرے جو ورلے آسمان کا حصہ ہیں کئی پیچیدہ کام سرانجام دیتے ہیں جن میں سے محض چند ایک کا ذکر کیا گیا ہے لیکن یہ ابتدائی علم بھی انسان کو ورطہ حیرت میں ڈالنے کیلئے کافی ہے۔اس ور لے آسمان کو کس عمدگی سے بنا کر معین افعال سرانجام دینے کیلئے دو کروں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔اس توازن میں معمولی سا بگاڑ بھی پیدا ہو جائے تو کرہ ارض پر زندگی قائم نہیں رہ سکتی۔اوزون کی تہ میں کسی قسم کی کمی تمام انواع حیات کو تباہ کرنے کیلئے کافی ہوگی کیونکہ اس طرح تیز کا سمک شعاعیں بلا روک ٹوک زمین تک آ پہنچیں گی۔اس مطالعہ سے نہ صرف عدل اور توازن کے گہرے معانی سمجھ میں آتے ہیں بلکہ اس سے مخلوق اور خالق کا باہمی رشتہ بھی استوار ہوتا ہے۔انسان رموز فطرت پر جس قدر گہرا غور کرتا چلا جاتا ہے اس قدر شکر کے جذبات بڑھتے چلے جاتے ہیں نیز اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کیلئے کیا کچھ کر رکھا ہے ورنہ محض اتفاقات کا کوئی سلسلہ زمین پر زندگی کو پیدا اور قائم نہیں رکھ سکتا نہ ہی زندگی کا یہ سفر اتفاقات کے سہارے آگے بڑھ کر انسان کی حاصل کردہ رفعتوں کو پاسکتا ہے۔مختلف قوتوں کے مابین توازن برقرار رکھنے کیلئے اربوں ایسے اقدامات کئے گئے ہیں جن کے باعث یہ کرہ ارض زندگی کے قیام کیلئے ایک موزوں جگہ بن پایا ہے۔