عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 26

26 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول اسی کلوروفل کا ہی مرہونِ منت ہے جو شمسی اور ثانوی شعاعوں کی مجموعی توانائی کے ذریعہ چلنے والے ایک کارخانے کی طرح مصروف عمل ہے۔یہ ثانوی فلکیاتی شعاعیں اس قدر لطیف ہوتی ہیں کہ بہت موٹے سیسے کے بھی آر پار ہو جاتی ہیں۔بے حد گہری کانوں اور سمندروں کی تہوں میں بھی ان کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔ایک اندازہ کے مطابق انسانوں پر ایک منٹ میں ان شعاعوں کے پچیس سے تمہیں ہزار ذرات کی مسلسل یلغار ہو رہی ہے۔یہ ضروری ہے کہ فلکیاتی شعاعوں کو ان کی اپنی اصل ابتدائی شکل میں سطح زمین پر پہنچنے سے روکا جائے۔مذکورہ بالا حفاظتی تہیں اسی مقصد کیلئے بنائی گئی ہیں۔صرف آکسیجن اور نائٹروجن کے ایٹموں کے ساتھ بار بار تصادم کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ثانوی شعاعیں ہی ہیں جو بالآخر سطح زمین تک پہنچتی ہیں۔جیسا کہ آسمان کے تعلق میں، اُوپر بیان کیا گیا ہے قرآن کریم نے ”میزان“ کی اصطلاح استعمال فرمائی ہے جس کے معنی ہیں تو ازن یا کوئی ایسی چیز جس سے توازن کا تعین کیا جاسکے۔زمین اور زمینی اشیاء کے تعلق میں قرآن کریم نے اسی مصدر سے نکلا ہوا ایک اور لفظ استعمال فرمایا ہے۔وہ میزان کا مصدر ”وزن“ ہے چنانچہ میزان مذکورہ بالا دونوں معانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔اس مادہ سے ایک اور لفظ ” موزون ہے یعنی ایسی چیز جو کامل توازن یا تناسب سے بنائی گئی ہو۔کیا ساری دنیا میں قرآن کریم کے علاوہ کوئی بھی ایسی کتاب موجود ہے جس نے اس قدر پیچیدہ اور مشکل مضامین اتنی سلاست، سادگی اور خوبی سے بیان کر دیئے ہوں؟ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو گہرے علمی اور سائنسی مضامین کو اس قدر روانی اور خوبی سے بیان کرتی ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔قرآن کریم عصر حاضر کے مسائل اور معاملات کو بھی زیر بحث لاتا ہے حالانکہ یہ آج سے چودہ سوسال قبل نازل ہوا جو انسانی عقل اور علم کے اعتبار سے آج سے یکسر مختلف دور تھا۔قرآن کریم قدرت کے پیچیدہ اسرار اور ہر تخلیق میں مخفی مظاہر فطرت سے جس انداز میں پردے اُٹھاتا ہے اسے دیکھ کر انسان حیران اور ششدر رہ جاتا ہے۔بعض ناقدین اسلام اور بعض دوہر یہ بھی یہ الزام لگاتے ہیں کہ قرآن کریم کلام الہی نہیں بلکہ محض حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے۔حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو بجائے فطرت کے سربستہ راز کھولنے کے قرآن کریم بذات خود ایک بہت بڑا معمہ ہوتا۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام لگاتے ہوئے وہ اس بات کو کس طرح بھول جاتے ہیں