عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 172

172 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم صورت میں رابطہ کا بھی مستحکم عقیدہ پایا جاتا ہے۔ایک اور گواہی جس کا قرآن کریم نے بارہا ذکر فرمایا ہے، وہ یہ ہے کہ ہر صاحب فکر کو یہ لازماً تسلیم کرنا ہو گا کہ وہ عدم سے وجود میں آیا ہے۔اس سے پہلے وہ کچھ بھی نہیں تھا۔اور وہ یہ بھی لازماً تسلیم کریگا کہ میں خود اپنا خالق نہیں ہوں اسلئے ضرور ایک دوسری ہستی کو خالق ماننا پڑے گا۔ایک اور دلیل جو انسانی فطرت میں پائی جاتی ہے وہ اس کا بنیادی اخلاقی تصور ہے جو تمام دنیا کے انسانوں میں یکساں پایا جاتا ہے۔سبھی بدی کو بدی اور بھلائی کو بھلائی سمجھتے ہیں۔دہریت کے حامی فلسفی بھی جو خدا کی ہستی کی دوسری دلیل کو ر ڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس دلیل کے مقابل پر آکر ٹھہر جاتے ہیں کیونکہ انہیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اگر خدا کا کوئی وجود نہیں تو انسانی فطرت میں morality کا تصور کیوں پایا جاتا ہے۔ان کو یہ تسلیم کرنے کے باوجود morality کا انکار کرنا پڑتا ہے۔بصورت دیگر مارکس کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ اشترا کی عمارت کی پہلی بنیادی اینٹ بھی رکھ سکتا۔یا بینٹ مارکس کے اس بنیادی مفروضہ پر بنی تھی کہ انسان ایک اخلاق سے تہی جانور ہے۔پس ایک چیز کا اعلیٰ حالت میں پیدا ہونا اور پھر رفتہ رفتہ ٹوٹ پھوٹ اور انہدام کا شکار ہو جانا یہ ایک طبعی عمل ہے جو ہر پیدا ہونے والی چیز پر جاری وساری ہے۔جس سے اسکی پہلی اعلیٰ حالت کی نفی نہیں ہوتی۔قرآن کریم کے نزدیک انسان کی بقا اس کی اخلاقیت پر مبنی ہے۔اس تعلق میں وہ کثرت سے گزری ہوئی قوموں کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہے جو محض اس لئے مٹ گئیں کہ بنیادی اخلاقی قدروں پر انہوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا تھا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ پیشتر اس کے کہ وہ اپنی غلطیوں کی پاداش میں مٹادئے جاتے ، اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان میں ایک متنبہ کرنے والا بھجواتا ہے لیکن پھر بھی جب انہوں نے اس تنبیہ کا انکار کیا تو وہ اپنی ہی پاداشی عمل کے نتیجہ میں مٹادئے گئے۔کائنات کی شہادت: کائنات کی شہادت کی تفصیل بھی قرآن کریم میں موجود ہے جسکا بیج فرشتوں کی اسی گواہی میں موجود تھا جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔خدا کے واحد ہونے اور شریک کے بغیر ہونے کی جو گواہی کائنات کے ذرہ ذرہ پر چھاپی گئی ہے اسکی طرف قرآن کریم حسب ذیل آیات میں توجہ دلاتا ہے: ا مَّنْ خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْاَرْضَ وَ أَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَابِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا