عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 40

40 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول اس مثال سے ایک بنیادی سوال یہ اُبھرتا ہے کہ جب عدل اور احسان میں ٹکراؤ دکھائی دے تو تیسرا رستہ کون سا ہے جو اس مخمصہ کو حل کر سکے؟ اس بزرگ نے بیک وقت عدل اور احسان کے تقاضے پورے کرنے کیلئے اپنے گوشت کی قربانی دینے کا رستہ اختیار کیا۔اُن کا یہ طرز عمل بھی ایتاء ذی القربی کہلائے گا کیونکہ اتنی اعلیٰ درجہ کی قربانی صرف اپنے اعزاوا قارب کیلئے ہی دی جا سکتی ہے۔ایتاء ذی القربی کے یہی وہ حقیقی معانی ہیں جو احسان اور عدل کے تعلق میں قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتے ہیں اور انہی اصولوں کے تابع نظام کا ئنات چل رہا ہے۔تاہم یاد رکھنا چاہئے کہ یہ تینوں اصول ابتدائے آفرینش سے ہی اکٹھے کار فرما نہیں ہو گئے تھے۔درحقیقت مادی دنیا یعنی بے جان اشیاء کلیۂ اصول عدل کے تابع نظر آتی ہیں۔زندگی نے جنم لیا تو ساتھ ہی شعور پیدا ہوا اور جیسے جیسے اس میں پختگی آتی گئی اور آگہی کا سفر آگے بڑھتا گیا تو احسان اور ایتا عذی القربی میں بھی ترقی کا آغاز ہوا۔یوں یہ دو اصول ارتقائے حیات کے سفر میں رہنما اصول قرار پائے اور پھر یہ سلسلہ ترقی کرتا گیا۔تخلیق انسانی کے مرحلہ تک یہ آہستگی لیکن مستقل مزاجی سے آگے بڑھا ہے لیکن جب یہ اس مقام تک پہنچا جہاں حیوانی اور انسانی زندگی کے مابین بہت بڑی حد فاصل قائم ہوگئی تو یوں لگا جیسے یہ بہت عظیم جست لگا کر آگے بڑھ گیا ہے جس سے طرزِ حیات ہی کلیہ تبدیل ہوگئی گویا ایک نئی مخلوق نے جنم لیا ہو۔انسان کی طرف سے مذکورہ بالا اصولوں کو قبول کرنے یا رد کر دینے سے عہد ساز تبدیلیوں نے جنم لیا اور انسانی تاریخ میں ایسے رجحانات پیدا ہوئے جن کے اثرات بڑے دوررس تھے۔عدل،احسان اور ایتاً عذی القربیٰ کے تعلق میں احساس کا کردار: سوال پیدا ہوتا ہے کہ حیوانات کی نسبت انسانی احساس کیوں اس قدر مہذب اور ترقی یافتہ ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کے ارتقا کے ساتھ ساتھ احساس نے بھی بتدریج ترقی کی اور انسان کی منزل پر پہنچ کر یہ اچانک بہت تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔کیونکہ انسانی سطح پر پہنچنے کے بعد جسمانی ارتقا سے کہیں بڑھ کر روحانی ارتقا شروع ہو گیا تھا۔ترقی کی مختلف منازل سے گزرنے کے طویل عرصہ بعد اس نے اپنا دائرہ اور بھی وسیع کر لیا۔افراد کو اپنے ماحول کا شعور حاصل ہوا اور اپنے ہم جنسوں کے بارہ میں آگاہی اور احساس بیدار ہو گیا۔اس سے اگلے مرحلہ پر ان کے احساس اور آگہی کا دائرہ دیگر انواع حیات تک ممتد ہو گیا۔بنی نوع انسان کے احساسات اپنی شدت اور وسعت کے اعتبار سے حیرت انگیز طور پر بڑھ