عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 39
عالم حيوانات 39 اس کے برعکس انسانوں میں ایسے مہذب اور اعلیٰ اخلاق کی مثالیں بھی ملتی ہیں جو عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی جیسی قرآنی تعلیمات کو ذہنوں میں اُجاگر کر دیتی ہیں۔آج بھی جبکہ بحیثیت مجموعی انسان اخلاقی انحطاط کا شکار نظر آتا ہے ، اعلیٰ اخلاق کی ایسی منفرد مثالیں موجود ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کے اچھے مستقبل کی امید پھر سے قائم ہو جاتی ہے۔اس ضمن میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتا ہوں جو ہے تو کہانی لیکن عدل، احسان اور ایتآ ذی القربی کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک بزرگ کسی کھلے میدان میں بیٹھے تھے کہ اچانک ایک مصیبت کی ماری فاختہ اُن کی گود میں آن گری جس کے تعاقب میں ایک عقاب تھا۔اُنہوں نے فاختہ کو پناہ دی۔اس پر باز نے سخت احتجاج کیا اور کہا کہ انصاف کے تقاضے کے خلاف ہے کہ آپ جیسا بزرگ انسان مجھے میری محنت کے پھل سے محروم کر دے کیونکہ قدرت نے میرے رزق کا سامان ایسے ہی کیا ہوا ہے۔اس بزرگ نے یہ دلیل تسلیم کی لیکن اس کے باوجود ان کے جذبہ ترحم نے اس بات کی اجازت نہ دی کہ وہ بے چاری فاختہ کو اس باز کا لقمہ بننے کیلئے پیش کر دیں۔چنانچہ کہانی کے مطابق انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے جسم سے گوشت کا ایک ٹکڑا کاٹ کر اس باز کو دے دیں۔لہذا انہوں نے ایسا ہی کیا اور باز سے کہا کہ تم عمدہ گوشت کے حقدار تو ہو لیکن تمہارا یہ حق نہیں ہے کہ تم اس فاختہ کا گوشت کھانے پر ہی اصرار کرو۔قدرت نے فاختہ کو ہی تمہارے لئے مخصوص نہیں کیا۔تمہیں گوشت کی ضرورت ہے اور وہ میں تمہیں دے رہا ہوں جو تمہارے لئے کافی ہونا چاہئے۔یہ کہانی زیر بحث مضمون کو نہایت عمدہ رنگ میں واضح کر رہی ہے۔اس میں عدل کے حقیقی معانی اور اس کے ایسے مواقع پر اطلاق کے اصولوں کی وضاحت ہے جہاں ایک کی بقا کا انحصار دوسرے کی فنا پر ہوتا ہے۔اس تناظر میں تقویم اور عدل کے قوانین کی ایک تشریح یہ ہوگی کہ ہر جانور کو اس کی بقا کا سامان اور اس کے حصول کے ذرائع مہیا کر دیئے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہر جانور کو بقا کی جدوجہد میں خطرات بھی در پیش ہیں۔چنانچہ اس طرح ایک ایسا متوازن ایکوسٹم یعنی ماحولیاتی نظام تخلیق کر دیا گیا ہے جو عدل کے بنیادی اصول پر جاری وساری ہے۔دوسرا پہلو جو اس مثال سے خوب واضح ہو جاتا ہے یہ ہے کہ عدل ایک بنیادی اور مطلق اصول کے طور پر کارفرما ہے اور جب کبھی بھی احسان کا عدل کے تقاضوں سے ٹکراؤ ہوگا تو عدل کو احسان پر ترجیح دی جائے گی۔احسان صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ عدل قائم رہے۔عدل کو قربان کر کے احسان نہیں ہوتا۔