عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 11
تین بنیادی تخلیقی اصول 11 گیا ہے کہ ان کا روحانی ارتقا ہمیشہ جاری رہے گا۔یادر ہے کہ تقویٰ کی بنیا د عدل پر ہے لہذا ایسا کوئی عمل بھی صالح قرار نہیں دیا جا سکتا جو عدل سے خالی ہو۔وہ لوگ جو دائمی ترقیات کی راہوں پر چلنا چاہتے ہیں ان سے کم از کم یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ عدل کے تقاضے پورے کریں۔اگر چہ عدل کے علاوہ بھی بعض صفات ایسی ہیں جو اگر حاصل ہو جائیں تو تقویٰ اور اعمال صالحہ کا معیار بلند ہوتا جائے گا۔اس پس منظر میں اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ کا مطلب یہ ہوگا کہ جب تک انسان عمل صالح پر قائم رہے گا اُسے اجر سے محروم نہیں کیا جائے گا۔اور اجر یہ ہوگا کہ وہ ہمیشہ اعلیٰ حالتوں کی طرف ترقی کرتا رہے گا۔مضمون کا یہ حصہ تو کسی قدر واضح ہو چکا ہے لیکن اس نظریے کو تسلیم کرنے سے طبعا ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے ادنیٰ حالت کی طرف لوٹ جانے سے کیا مراد ہے؟ قرون وسطی کے بعض مسلم مفکرین کا خیال تھا کہ انسان تنزل کا شکار ہو کر جسمانی طور پر واقعہ زندگی کی ادنیٰ حالت اختیار کر سکتا ہے۔وہ قرآن کریم کی بعض آیات کے ظاہری اور لفظی معانی لے کر یہ نتیجہ اخذ کرتے تھے کہ انسان فی الواقع بندر ، سؤر اور گدھے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔اس سلسلے میں بہت سی عجیب و غریب کہانیاں بیان کی جاتی ہیں۔مثلاً قرون وسطی کے بعض مسلم علماء نے بعض قرآنی آیات اور احادیث کو غلط رنگ میں سمجھا اور ایک ایسے فرضی شہر کے متعلق کہانی گھڑ لی جہاں بعض سرکش یہود کو بندر اور سور بنا دیا گیا۔وہ اس شہر کا نام نہیں بتا سکتے کیونکہ تاریخ میں ایسے کسی شہر کا کوئی ذکر نہیں ملتا نہ ہی وہ اس بات پر روشنی ڈال سکتے ہیں کہ ایسی مسخ شدہ قوم میں توالد و تناسل کا سلسلہ کیونکر جاری رہا؟ وہ صرف یہ بتاتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت یہ سب اچانک اس طرح مر گئے کہ بے چارے ماہرین آثار قدیمہ کیلئے کوئی نشان تک نہ چھوڑا۔پرانے علماء میں سے مجاہد نے اس کو ٹھیک طرح سمجھ کر بیان کیا ہے کہ خدا نے سچ مچ ان کو بندر بن جانے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ جس طرح احمق اور بے شرم کو گدھا کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح ان کو بندر کا نام دیا گیا ہے۔(1) پس اسفل سفلین کی حالت کی طرف لوٹنے کا بہر حال یہ مطلب نہیں ہو سکتا کیونکہ جسمانی طور پر بندر اور سؤر زندگی کے سب سے نچلے طبقے سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ان سے بھی ادنی اقسم کے جاندار پائے جاتے ہیں۔جب ہم کہتے ہیں کہ انسان کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے تو عدل سے کام لے چاہے تو نہ لے، تو ہرگز یہ مراد نہیں کہ اسے اس بارے میں لامحدود اختیار دیا گیا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ انسانی زندگی کے بے شمار ایسے شعبے ہیں جن میں اصول عدل از خود کار فرما ہیں اور انسان کو آج بھی اختیار نہیں اور نہ